وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودیہ سے اعلیٰ سطح کے روابط سے معیشت میں بہتری آئے گی۔
وزیر اعظم نے العربیہ نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب ترقی اور خوشحالی میں شراکت دار ہیں، پاک سعودی تعلقات کی دنیا میں کوئی مثال نہیں۔
مشترکہ سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد سمیت دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مصروفیات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اعلیٰ سعودی قیادت کی سنجیدگی اور خلوص کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ نہ صرف سفارت کاری کے میدان میں بلکہ خطے میں بھی تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک نے حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار دونوں سطح پر باہمی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے، اب ہمارے پاس کانوں اور معدنیات اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایک واضح راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وفد خاص طور پر شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو عملی شکل دینے کے لیے ریاض میں ہے، کانوں اور معدنیات کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی میں بھی اہم اعلانات کیے جائیں گے۔
زرعی شعبے کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ کوششوں سے پھلوں، سبزیوں، گندم، گنے اور کپاس سمیت زرعی پیداوار کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سعودی عرب کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے، آئی ٹی کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کو مزید مربوط کرے گا۔
وزیراعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بے حد تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت اور متحرک قیادت نے گزشتہ آٹھ سالوں میں مملکت کو تبدیل کر دیا ہے، سعودی ولی عہد کی مثالی قیادت سے ہی ممکن ہوسکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی ولی عہد کا مشن 2030 دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے، سعودی وزیر خارجہ، اعلیٰ سرمایہ کاری وفد کا دورہ مفید ثابت ہوگا۔



















