رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ آئین سے واضح ہے کہ مینڈیٹ کس کو ملنا ہے۔
شیر افضل مروت نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2023 کی انسانی حقوق کی رپورٹ ںڑی واضح ہے کہ دو سال میں حالات کیسے تھے، انہوں نے مگرمچھ کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی، دیکھنا یہ ہے کہ 9 مئی کو مینڈیٹ کے ساتھ کے ساتھ کیا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو لکھا ہے کہ پانچ جج مزید چاہیے، ابتدائی تین چار فیصلے واضح کر دیں گے کہ فارم 45 کا کیا حشر نشر کیا گیا۔
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اسپیکر صاحب کو دیکھنا چاہیے کہ ان کی موجودگی میں اسمبلی کے اندر کسی کے آباؤ اجداد کے طعنے دیے جاتے ہیں۔



















