متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ دنیا چاند پر جارہی ہے اور ہمارے یہاں بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کا ریونیو ایجن ہے، پچھلے 70 سالوں سے کراچی 68 فیصد ریونیو کما کر دے رہا ہے، دو پورٹس ہیں ہمارے پاس تیسرا پورٹ گوادر ہے مگر وہ آپریشنل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے، کراچی کے لوگ سندھ سے صرف قطرہ پانی مانگ رہے ہیں، کراچی والوں کو 8 سے 10 ہزار میں پانی کا ٹینکر ملتا ہے، کراچی کو 540 ملین گیلن پانی ملتا ہے، 15 سال سے کراچی کو پانی نہیں دیا گیا۔
ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ کے فورمنصوبے کے لیے لائن ڈالی جارہی ہیں، یہ منصوبہ بھی نہیں معلوم کب مکمل ہوگا، کوٹہ سسٹم میں کراچی، حیدرآباد کو محروم کیا گیا ہے، 40 سال پہلے ایم کیوایم جس بنیاد پر بنی تھی آج وہ محرومیاں زیادہ ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 15 ہزار کراچی میں گھوسٹ اسکولز موجود ہیں، سندھ میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں، 70 لاکھ بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں، آج دنیا کی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز بھارت سے تعلق رکھتے ہیں، بھارت آج ترقی کررہا ہے کیوں کہ انہوں نے قوم کو اچھی تعلیم دی، نوجوانوں کو آج کی دنیا کے حساب سے تعلیم دینی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہر تیسرے دن ایک بچہ گٹر میں گر کرجاں بحق ہو جاتا ہے، دنیا چاند پر جا رہی ہے اور ہمارے یہاں بچے گٹرمیں گر کر مر رہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر نے مزید کہا کہ صدر مملکت کسی پارٹی کا نہیں صدر پورے پاکستان کا ہوتا ہے، تقریر کے دوران جو حالات بنے وہ اچھے نہیں تھے۔



















