وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ملاقات کی جس میں اہم قومی وصوبائی امورپربات چیت ہوئی۔
ذائع کے مطابق گورنرکےپی فیصل کریم کنڈی کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر شہباز شریف نے گورنر فیصل کریم کنڈی کااستقبال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں صوبہ خیبر پختونخوا کے امور اور ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔
گورنر خیبر پختونخوا نے حکومت کی کاروبار و سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک میں بڑھتی ہوئی بیرونی سرمایہ کاری پر وزیرِ اعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ملاقات میں خیبر پختونخوا کے مسائل اور ان کے پائیدار حل کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ بھی شریک تھے۔
ذرائع کا کہنا کہ ہے کہ دونوں رہمناؤں کے درمیان اس ملاقات میں خیبرپختون خوا کے مسائل اورصوبائی حکومت کےمطالبات پر بات چیت ہوئی جبکہ فیصل کریم کنڈی کی صوبےکی صورتحال پروزیراعظم کوبریفنگ دی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ بجٹ کے بارے میں ہمارے کچھ ایشوز تھے اس حوالے سے وزیر اعظم سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا جبکہ کے صوبے کے حوالے سے بھی وزیر اعظم سے بات چیت ہوئی ہے۔
گورنر خیبرپختون خوا نے کہا کہ صوبے کو جو پانی کا شیئر ملتا تھا اسکافیصلہ اب تک باقی ہے اس کے علاوہ انہوں نے چشمہ رائٹ کینال کے لیے بھی رقم رکھنے کی سفارش کی ہے۔
فیصل کنڈی کا کہنا ہے کہ چشمہ کینال کے لیے پہلے 2 ارب اوراب 10ارب رکھے ہیں اس کے علاوہ اس ملاقات میں فاٹااور پاٹا کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔
گورنر خیبرپختون خوا کے مطابق اس ملاقات میں صوبے میں لا اینڈ آرڈر پر بھی مشاورت کی گئی، جبکہ دس برس میں کے پی میں سوشل میڈیا پر حالات شاید کچھ اور ہیں۔
فیصل کنڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے میری بات سنی اور فیصل کریم کنڈی نے وزیر داخلہ سے بھی ملاقات کی، وزیر اعلیٰ سے کہا ہے مسائل کا حل ڈائیلاگ سے کیا جائے۔
گورنر خیبرپختون خوا نے کہا کہ صوبے میں لوڈشیڈنگ میں کمی کر دی گئی ہے تاہم باقی صوبوں کی بہترچیزیں کے پی میں بھی لائی جائیں۔



















