وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران پاک ۔ چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے تحت کراچی تاپشاور ریلوے اپ گریڈیشن منصوبے میں بڑی پیش رفت کی راہ ہموار ہونے اور ایم ایل ون منصوبے کے مالی معاملات طے پانےکاامکان ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران ایم ایل ون منصوبے کےلیے فنانسنگ معاہدےکے امورکو حتمی شکل دی جائےگی، جبکہ معاملات طے پانے پر پاکستان اور چین کےدرمیان فنانسنگ کامعاہدہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کے لیے85 فیصد فنڈزچین کی جانب سے فراہم کیےجانےکاامکان ہے، جبکہ اس منصوبے کےلیے پاکستان اپنے وسائل سے15فیصد فنڈزفراہم کرے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ایم ایل ون منصوبہ 8 سال میں مکمل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کی دعوت پراپنے وفد کے ہمراہ 5 روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہوگئے۔
تین حصوں کے دورے کے دوران وزیر اعظم شہبازشریف بیجنگ کے علاوہ ژیان اور شینزین کے شہروں کا بھی دورہ کریں گے۔
شہباز شریف بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور وزیراعظم لی کیانگ سے وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔
وزیراعظم کے دورے کا ایک اہم پہلو تیل و گیس، توانائی، آئی سی ٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں کام کرنے والی سرکردہ چینی کمپنیوں کے کارپوریٹ ایگزیکٹوز سے ملاقاتیں کرنا ہے۔
دونوں فریقین چین پاکستان اقتصادی راہداری کو مزید اپ گریڈ کرنے اور تجارت اور سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کریں گے، یہ بات چیت سلامتی اور دفاع، توانائی، خلائی، سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کی جائے گی۔



















