لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ عید پر کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں عید الاضحی کے انتظامات اور سیکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبے میں جانوروں کی آلائشیں نہروں اور نالوں میں پھینکنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ سری پائے بھوننے کے غیر قانونی کاروبار پر دفعہ 144 کے تحت پابندی بھی عائد کردی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبائی، ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل لیول کنٹرول روم مزید فعال کرنے کا حکم دے دیا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ لاہور میں عملہ خود گھر گھر جاکر بائیوڈی گریڈ ایبل بیگ میں بند جانوروں کی آلائشیں اٹھائے گا، قربانی کے بعد شہر بھر کی سڑکو ں کو دھویا جائے گا، چونا ڈالا جائے گا اور اسپرے ہوگا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 294 مقامات پر جانوروں کے لئے سیل پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں، پنجاب بھر میں ڈرین اور مین ہول وغیرہ کو آلائشیں ڈالنے سے محفوظ رکھا جائے۔
دوران اجلاس 2600 مساجد اور 900 عید گاہوں پر سیکیورٹی کے انتظامات پر رپورٹ پیش کی گئی اور سیکیورٹی انتظامات کے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم بھی دیا گیا۔
مریم نواز نے عید گاہوں میں گرمی کے پیش نظر مسٹ فین اور پنکھے لگانے کی ہدایت دی اور کہا کہ نگرانی کے لئے کیمرے اور چیکنگ کے لئے واک تھرو گیٹس نصب ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے پارکس میں بچوں کے لئے جھولوں اور سلائیڈز کی انسپکشن کا بھی حکم دیتے ہوئے کہا کہ پارکوں میں نصب جھولوں کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے اور حفاظتی معیار کو یقینی بنایا جائے، جہاں اندیشہ ہو سیکیورٹی بڑھائیں، عوام کے جان ومال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال اور اسلحہ نمائش پر پابندی یقینی بنائی جائے، مویشی منڈیوں، بازاروں اور مارکیٹوں کی سیکیورٹی کے لئے فول پروف انتظامات کیے جائیں اور مویشی منڈیوں میں صفائی، شیڈ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور اسپرے بھی کیا جائے۔
واضح رہے کہ اجلاس میں سینیٹر پرویز رشید، سینئر منسٹر مریم اورنگز یب، صوبائی وزیر اطلاعات عظمی زاہد بخاری، صوبائی وزیر قانون صہیب احمد بھرت، معاونین خصوصی راشد نصر اللہ، ذیشان ملک، ایم پی اے ثانیہ عاشق، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور، سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔



















