متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ اپوزیشن میں موجود لوگ ہمیشہ بجٹ کی مخالفت ہی کرتے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی سیکٹر میں 71 فیصد کیپسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1700 ارب روپے بجلی کمپنیوں کو ادا کیے جائیں گے، بجلی کمپنیوں سے معاہدے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس بجٹ میں ساڑھے 9 ہزار سود کی مد میں دیا جائے گا، 51 فیصد کمائی کا صرف سود پر چلا جائے گا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما نے کہا کہ وزیر خزانہ ہو یا اپوزیشن لیڈر کسی نے سود کے خاتمے کی بات نہیں کی، پی ٹی آئی والے تو ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں مگر سود پر خاموش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک پر قرض کا عذاب ملک چلانے والوں کی وجہ سے آیا ہے، لوگوں کو آپ دیتے کیا ہے کہ جو ان سے اتنا بھاری ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جنریل اور سیاستدان ایک ہزار ارب روپے اکٹھے کر کے دکھائیں، یہ سب 78 ہزار ارب روپے کے قرض کو ادا کرنے کیلئے جمع کر کے دکھائیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما نے کہا کہ پاکستان کے عوام اتنے غیور ہیں، اپنے کپڑے بیچ کے ملک کا قرضہ اتاریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پاس رائیونڈ کا محل اور بانی پی ٹی آئی کے پاس بنی گالہ ہے، یہ سب اپنا ایک ایک گھر پاکستان کو عطیہ کر دیں، زرداری صاحب بلاول ہاؤس، بانی پی ٹی آئی بنی گالہ دے دیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان پر 78 ہزار 942 ارب روپے کا قرضہ ہے، یہ ہاؤس اعلان کرے اپنی 25 فیصد ملکیت پاکستان کو عطیہ کرتے ہیں، تمام وزراء اور سینیٹرز اپنی 25 فیصد ملکیت پاکستان کو عطیہ کریں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما نے کہا کہ عام تاثر ہے سارا پیسہ آئی ایم ایف دیتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، 18 فیصد پیسہ آئی ایم ایف و دیگر کا ہے، ہمارے اس رویے سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے والے ہمیشہ اسکی تعریف کرتے ہیں، وزیر خزانہ اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر سنی، نان ٹیکس ریونیو4 ہزار ارب روپے جمع کرنے کا کہا گیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما نے کہا کہ اپوزیشن میں موجود لوگ ہمیشہ بجٹ کی مخالفت ہی کرتے ہیں، ایوان میں موجود افراد بار بار یہاں اور وہاں بیٹھ چکے ہیں۔



















