بانی پاکستان تحریک انصاف کو ایک اور بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے بیانیے پر پنجاب حکومت نے کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔
صوبائی کابینہ کی دستاویز میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف آنے والی درخواست کو وجہ بنایا گیا۔ دستاویزات کے مطابق سابق چیئرمین پی ٹی آئی پاکستان کو توڑنے کی منظم سازش کررہے ہیں اور ان کے ورکرز ریاست مخالف کام کر رہے ہیں۔
دستاویزات میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے موجودہ صورتحال کو 1971 کی سیاسی صورتحال سے تشبیہ دی ہے، جبکہ پی ٹی آئی لیڈرز سازش کے ذریعے موجودہ صورتحال کو 1971 کا ریفرنس دے رہے ہیں۔ سربراہ پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو پاکستان مخالف بیانیے کا ٹاسک سونپا ہے۔
دستاویزات کے مطابق بیرسٹر گوہر نے بھی اڈیالہ جیل کے باہر ریاست مخالف بیان دیے ہیں انہوں نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد مشرقی پاکستان کی بات دہرائی۔ بانی تحریک انصاف اور دیگر ارکان کا عمل بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔
سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے بیانات سے عوام میں منفی پراپیگنڈا پیدا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی کے بیانات، میڈیا ٹاک پر کارروائی ہو گی۔
دستاویزات کے مطابق قومی اداروں، عدلیہ، سینئر افسران کیخلاف جھوٹے بیانات پر کیس بنیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف لیڈرز نے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشنز کی خلاف ورزی کی ہے۔



















