وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے برطانوی ایجوکیشنسٹ اور برطانوی وزیراعظم کے ڈیلیوری یونٹ کے سابق سربراہ سرمائیکل باربر کی زیر قیادت وفد کی ملاقات ہوئی۔
برطانوی وفد سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اوربرطانیہ کے تاریخی دو طرفہ تعلقات ہیں، جبکہ دوطرفہ تعلقات کئی دہائیوں پرمحیط ہیں اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے اور پاکستان کا اہم شراکت دار ہے جبکہ ہم برطانوی حکومت کے شکر گزار ہیں جبکہ دونوں ممالک کے عوام کے آپس کے روابط کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی بحالی کے لئے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے، جبکہ تمام ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیوسمیت معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی کے حوالے سے غیر فعال اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے اور ڈاؤن سائیزنگ کی پالیسی پرعمل کیا جا رہا ہے جبکہ برآمدات اور ٹیکس بیس میں اضافے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اورزراعت سے متعلقہ برآمدات کے حوالے سے بے پناہ استعداد ہے۔
وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے حوالے سے ٹاسک مینیجمنٹ سسٹم کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کے ڈیلیوری یونٹ کے سابق سربراہ سرمائیکل باربر نے حکومت کے معاشی بحالی کے پلان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے حوالے سے ٹھیک سمت میں جا رہی ہے، امید ہے کہ آپ کی موثر قیادت میں پاکستان جلد ہی معاشی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگا۔
ملاقات کے دوران وفد نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کو ہرشعبے میں بھرپور مدد اور تعاون فراہم کرے گا جبکہ پاکستان کی ترقی ہماری ترقی ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزیراقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
جبکہ برطانوی وفد میں برطانوی فارن، ڈویلپمنٹ اور کامن ویلتھ آفس کی ڈائریکٹر جو موئیر، اور سینئر گورننس ایڈوائزرز نوید عزیز اورمیٹ کلینسی شامل تھے۔



















