لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی میں ڈسپلن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام رہنما، پارلیمنٹرین پارٹی مؤقف، فیصلوں کے پابند ہوں گے، ذاتی رائے کی بجائے پارٹی پالیسی اور گائیڈ لائن اختیار کرنا ہوگی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مشاورتی اجلاس میں ذاتی رائے دی جا سکے گی جبکہ میڈیا اور پبلک مقامات پر سب کا ایک ہی موقف ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آئے تھے، اس تناظر میں ایک مؤقف، ایک پالیسی کا فیصلہ کیا گیا۔
الیکشن کے بعد بعض رہنماؤں نے نتائج کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا، پارٹی فیصلوں سے اختلاف کرنے والے اقتدار، حکومت کا حصہ نہیں بن سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ شکست کھانے والے اہم رہنماؤں کو وفاقی، پنجاب حکومت میں اکاموڈیٹ کرنے پر غور جاری ہے۔



















