سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سمیت سیاستدانوں پر مقدمات نہیں بننے چاہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے پارٹی وابستگی سے بالا عوامی امن جلسوں کا اعلان کردیا۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے خلاف ملک گیر یوم سیاہ منایا جائیگا، 10 اگست کو مردان میں کسان کنونشن منعقد ہوگا، 11 اگست کو پشاور میں تاجر کنونشن جبکہ 18 اگست کو لکی مروت میں امن کنونشن ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام عوامی اجتماعات میں خود شریک ہونگا، یہ اجتماعات پارٹی وابستگی سے بالا عوامی ترجمان ہونگے، پاکستان کے عوام 2001ء سے 2024ء تک امن کو ترستے ہیں، بنیادی ضرورت امن ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کیساتھ مقابلہ میدان میں ہے، جو سیاسی سہولت یا مراعات بطور سیاستدان مجھے حاصل ہوں وہ سب کو یکساں ہونی چاہئیں۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہیں، نگران سیٹ اپ کا تصور ختم کیا جائے، غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کے سوا ملک میں امن آئے گا نہ معاشی استحکام۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام لازمی ہے، اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، ملک اب مزید کسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی عوام اور امن کے ساتھ ہے، فسادیوں سے ہم نمٹ لیں گے۔



















