Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سابقہ حکومتوں نے آئی پی پیز سے جومعاہدے کیے یہ سب اسکا نتیجہ ہے، مصطفیٰ کمال

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے آئی پی پیزسے جومعاہدے کیے یہ سب اسکا نتیجہ ہے۔

 مصطفیٰ کمال نے نیپرا ہیڈ آفس کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی موجودہے، جبکہ حالات یہ ہیں بڑے بھائی نے چھوٹےبھائی کوبجلی کے بل کے پیسے مانگنے پرقتل کردیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گرمی کے موسم میں پورے پاکستان کی بجلی کی طلب 30 ہزارمیگاواٹ ہے، جبکہ سردی کے موسم میں بجلی کی طلب 17 ہزارمیگاواٹ پرپہنچ جاتی ہے، لوگ یہ سمجھ رہے ہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے 16،16 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس 43 ہزارمیگاواٹ بجلی پیداوارکی صلاحیت موجود ہے، جبکہ بجلی کے بلوں کے معاملے پرچیئرمین نیپرا سے ملاقات کی ہے، اورکہا کہ کے الیکٹرک کا ٹیرف طے کریں، نیپرا کے الیکٹرک کوپابند کرے کہ نان پیمنٹ معاملے پرفیڈرزکوبند نہ کیاجائے، اس کے علاوہ جب تک دیگرکمپنیاں نہیں آئیں گی بجلی کا سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عوام کا سب سے بڑامسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگے بل ہیں، بجلی نہیں آرہی لیکن بل آرہا ہے، 18 گھنٹےکی لوڈشیڈنگ کی باوجود بجلی کے بھاری بل آتے ہیں، عوام بجلی کے بلوں سے تنگ آچکے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کمپنیوں کوبجلی نہ بنانے کے پیسے دیئے جارہے ہیں، 40  ایسی کمپنیاں ہیں جن سے یہ سارانظام چل رہا ہے، بجلی کمپنیوں سے کیے گئے معاہدے فوری ختم کیے جائیں۔

 مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی موجود ہے، ہمارے پاس زیادہ بجلی بنانے کی کپیسٹی موجود ہے، جبکہ پاکستان میں 17 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، دیہی علاقوں میں میں چار چار دن تک بجلی نہیں ہوتی۔

متعلقہ خبریں