18 سال عمر ہونے کے باوجود شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں کیلئے بڑی خبر آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سینیٹ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے نادرا کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔
لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے کہا کہ نادرا نے واٹس ایپ چینل بنایا جس پر ایک اشاریہ 6 ملین فالورز ہیں، سینیٹر عرفان صدیقی نے سوال کیا کہ جب 18 سال کا شہری شناختی کارڈ کیلئے رجوع کرے تو کتنے عرصے میں بنتاہے؟
چیئرمین نادرا نے کہا کہ رولز کہتے ہیں کہ 19 سال 3 ماہ تک ہر شہری پر کارڈ بنانا لازم ہے بصورت دیگر سزا ہوگی، آئی ڈی کارڈ نہ بنانے کی صورت میں 50 ہزار جرمانہ اور ایک سال کی قید کی سزا ہے، لیکن آج تک کسی کو آئی ڈی کارڈ نہ بنانے پر سزا نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ہر صوبے کے قوانین مختلف، ہم آہنگ نہیں ہیں، یوسیز کیساتھ رجسٹرڈ شہریوں کا ڈیٹا نادرا کے پاس ہو اور وہ آئی ڈی کارڈ بنائے، پاکستان میں 70 ملین افراد کے پاس اسمارٹ فون ہے۔
دوران اجلاس چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے کہا کہ نادرا کے 629 ملازمین کو جعلی آئی ڈی کارڈ بنانے پر فارغ کیا گیا۔
ڈی جی پاسپورٹ کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ 23 پاسپورٹ آفسز تھے اب 223 ہیں، اب ہمارے پاس صرف پاسپورٹ کا بیک لاگ 1 لاکھ 65 ہزار ہے، سعودی عرب سے 12 ہزار 86 جعلی پاسپورٹس آئے، جس پر تحقیقات جاری ہیں، جعلی آئی ڈی کارڈز پر یہ پاسپورٹس بنوائے گئے ہیں۔



















