Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مذہب کے نام پر ملک میں خون خرابے کی کوشش کی جارہی ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سیاسی مفادات کے لیے مذہب کے نام پر ملک میں خون خرابے کی کوشش کی جارہی ہے۔

خواجہ آصف نے وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کو قتل کی دھمکیاں دینے کی مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی وقانونی تھا اس میں کوئی ابہام نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغربی، سیاسی مفادات لینے والے اس مسئلے کو ہوا دے رہے ہیں، سب کو معلوم ہے کن وجوہات پر چیف جسٹس کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر عوام کو قتل پر اکسانے کی کوشش کی گئی، ایسی باتوں کی اجازت دی گئی تو ریاست کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف شرانگیز گفتگو کی گئی، ختم نبوت ﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، شرانگیز پروپیگنڈے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست قتل کے فتوے برداشت نہیں کرے گی، سپریم کورٹ کی وضاحت کے باوجود جھوٹا پروپیگنڈا جاری ہے، ایک گروہ کی جانب سے ریاست کے خلاف شرانگیز، بےبنیاد پروپیگنڈا شروع کیا گیا، ریاست اس کے خلاف ایکشن لے گی۔

“چیف جسٹس کے خلاف ویڈیو جاری کرنا کھلی بغاوت ہے”

دوسری جانب وفاقی وزیر احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتھوں کو قتل غارت، فتوؤں کی اجازت نہیں دی جائے گی، کلمہ گو کے خلاف قتل کا فتویٰ دینے کا کسی کو حق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکن شہری کے قتل پر پوری قوم کو شرمندگی کا سامناکرنا پڑا، پاکستان میں ایسے واقعات کو پوری دنیا میں اجاگر کیا جاتا ہے، وقت آگیا ایسی قوتوں کےخلاف فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے۔

احسن اقبال نے کہا کہ جیدعلماء کا فتویٰ موجود ہے، دہشت گردی کا دین سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان میں دین کے نام پر فساد پھیلایا جارہا ہے، سیاست کرنی ہے تو حکومتی پالیسیوں پر کریں۔

انکا کہنا تھا کہ حکومت دھمکی دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے، عوام فریب نعروں سے دور رہیں، لڑانے والوں سے پرہیز کریں، اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست میں سزا جزا کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہوتا ہے، دہشت گردی، خودکش حملے فتوے بازی کا تعلق اسلام سے نہیں ہے، سری لنکا، سرگودھا، جڑانوالہ، سوات میں ہیجان پیدا کیا گیا، کسی کویہ حق نہیں کہ وہ کسی کے ایمان کا فیصلہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ ریاست کا بنیادی ستون ہے، مسلمان کے ایمان کی بنیاد عقیدہ ختم نبوت ہے، چیف جسٹس کے خلاف ویڈیو جاری کرنا کھلی بغاوت ہے، کسی گروہ کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں۔

متعلقہ خبریں