مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ 9 مئی کا الزام دیتے ہیں لیکن شواہد پیش نہیں کیے جاتے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 مئی کے حوالے سے سیاست نہ کی جائے، اگر رپورٹ میں کرپشن ہوگی تو قانونی کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ثبوت سامنے لائے جائیں، جو ملوث ہیں انکو سزادی جائے، سیاسی جماعت کے سینٹرل میڈیا ڈویژن سے ملک مخالف پروپیگنڈا سے متعلق شکایات بانی پی ٹی آئی تک بھی پہنچی تھیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے شکیل خان کے ڈی نوٹیفائی کی سمری گورنرکو بھیجی، معاملہ میڈیا پر بھی آیا، کارکنان کی طرف سے بھی شکایات تھیں۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شکیل خان کی شکایات کے حوالے سے کمیٹی بنائی تھی، شکیل خان ہمارے کارکن ہیں، کچھ ایشو پر کل انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کا الزام دیتے ہیں لیکن شواہد پیش نہیں کیے جاتے، خواتین، ورکرز آپکی حراست میں ہیں، انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، بانی پی ٹی آئی نے بھی کہا کہ ویڈیو ثبوت سامنے لائے جائیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت غیرآئینی اقتدار کو بڑھاوا دینے کیلئے یہ سب کر رہی ہے، چند معاملات کی وجہ سے شکیل خان نے استعفیٰ دیدیا، کمیٹی کو کرپشن کے الزام کی چھان بین کیلئے سہولت کاری کا ٹاسک دیا۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ شکیل احمد کو ہٹانے کی سمری پہلے گئی اور استعفیٰ بعد میں آیا، کمیٹی ممبران چاہیں تو تفصیلات پریس کانفرنس میں دے سکتے ہیں۔



















