Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تعلیمی شعبے کی پسماندگی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے، احسن اقبال

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ  تعلیمی شعبے کی پسماندگی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا  کہنا تھا کہ   انسانی وسائل اور تعلیم کے بغیر انفراسٹرکچر سے ترقی ممکن نہیں ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ  ترقی کے سفر میں دیگر رکاوٹیں بھی ہین جن میں سیاسی عدم استحکام بھی ہے،ترقی کیلئے ہارڈویئر کے ساتھ ساتھ سوفٹ ویئر کی بھی ضرورت ہے۔سڑکیں ، انفراسٹرکچر بھی ضروری ہے لیکن تعلیم زیادہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ تعلیم کے بغیر کسی ملک نے ترقی کی ہو۔تعلیم کے بغیر کوئی ملک ترقی کی دوڑ کیلئے اہل نہیں ہو سکتا۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ  ہمارا سوشیو اکنامک پلیٹ فارم فریکچر ہے۔ہمارے اکنامک انڈیکیٹر ہمیں لو مڈل انکم کلب میں لے جاتے ہیں،  سوشل انڈیکیٹر کو امپروو کرنے کیلئے وسائل کو مرکوز کرنا ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا کہ  ہم نے 1998 میں ویژن 2010 لانچ کیا تھا۔ اس کے بعد مشرف نے مارشل لاء لگا دیا اور ویژن بھی گیا۔میں نے مشرف کو خط بھی لکھا کہ یہ ویژن انتہائی ضروری ہے،   لیکن مشرف اس کے بجائے ہائی جیکنگ کیس بنانے میں مصروف تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل مس انفارمیشن کا دور چل رہا ہے، ہمارے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ اس کو فلٹر کرسکیں۔

وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ  2013  میں ہم نے ویژن 2025 بنایا تاہم گزشتہ چار سالوں میں قوم میں نفرت پیدا کی گئی۔چار سال کے دوران صرف لوگوں کو چور ڈاکو قرار دینے پر لگا دیے گئے۔  ہم نے ترقی چھوڑ کر ایک دوسرے کو گالی دینا شروع کردی۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے 7 کروڑ بچوں میں سے ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔1998   میں ایک مہم کے تحت ایک دن میں 8 لاکھ بچوں کو اسکول  میں داخل کروایا ،ان میں   سے آدھے تین ماہ کے اندر ہی اسکولوں سے نکال  دیے گئے۔ بدقسمتی کی بات یہ تھی کہ اسکولوں میں جگہ نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ  ابھی اگر ایک کروڑ بچے اسکولوں میں چلے جائیں تو وہاں جگہ ہی نہیں ہوگی۔ ہمیں بچوں کیلئے اسکولوں کی کپیسٹی بڑھانی ہوگی۔ صوبوں کے ساتھ مل کر بچوں کو اسکولز میں لانے کا جامع پلان بنا رہے ہیں۔ وفاق 25ارب دے گا باقی 25ارب صوبے خرچ  کریں گے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ہمیں فساد ،انتشار اور عدم استحکام سے باہر نکلنا ہوگا۔ پاکستان سے بڑی کوئی شناخت نہیں سب کو پاکستان کیلئے کام کرنا ہوگا۔میڈیا  سیاسی جھگڑوں پر توجہ دینے کی بجائے تعلیم، صحت، سماجی سطح پر درپیش بنیادی مسائل کو کوریج دے۔

متعلقہ خبریں