امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ 28 اگست کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ رحیم یار خان میں پولیس پر حملے میں 12 اہلکاروں کی شہادت ہوئی، کچے کا آدھا علاقہ ایک اتحادی کی حکومت میں ہے تو آدھا دوسرے اتحادی کی۔
انہوں نے کہا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے پاس یہ اسلحہ کہاں سے پہنچ رہا ہے، ہمارے ادارے کیا کررہے ہیں؟ جن اداروں کا کام خبر رکھنا ہے کیا وہ صرف سیاسی مقاصد کے لئے رہنماؤں پر نظر رکھیں گے؟
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے آئی جیز کی غلفت سے یہ واقعہ رونما ہوا، معیشت اور امن و امان کی خراب صورتحال سب کے سامنے ہے، دہشتگردوں کا نیٹ ورک کیسے روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آپریشن کی وجہ سے عوام اور فوج میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں، پائیدار امن کے لئے صحت و تعلیم کی سہولیات دینی پڑے گی، بجلی کی قیمت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عوام کو ملنے والا ریلیف بھی جماعت اسلامی کے پریشر کا نتیجہ ہے، بجلی کی قیمت میں پورے پاکستان کے لئے کمی کی جائے، پنجاب کی کمی بجٹ سے کی گئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کے پی حکومت سے صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرتا ہوں، کے پی حکومت کو بھی بجلی اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا چاہیے، سود کو ختم کرنے کی بجائے شرح سود میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ پریشر برقرار رہنا چاہیے، عوامی سطح پر پیچھے نہیں ہٹیں گے، 28 اگست کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے، تاجر برادری کو حکومتی ریلیف کے وعدوں میں نہیں آنا چاہیے، تاجروں کی کامیاب ہڑتال بہت لمبا سفر کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تاجربرادری سے ملک گیر ہڑتال کی کامیابی کی اپیل کرتا ہوں، پاکستان میں بننے والی سستی بجلی میں کے پی کا بڑا حصہ ہے، سستی بجلی پانی ہوا اور کوئلے سے بنتی ہے، جاگیرداروں پر ٹیکس لگنا چاہیے، یکم ستمبر سے رابطہ عوام مہم شروع کرینگے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے تمام مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھائے گی، ختم نبوت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔



















