وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان اندریکا رتوتے کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی۔
اعلیٰ سطح کے وفد میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ، فدی ایل اور افغانستان میں اقوام متحدہ مشن کے سربراہ مالک سیسے بھی شامل تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزارت داخلہ آمد پر اقوام متحدہ کے وفد کا خیر مقدم کیا۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان کی بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی پرزور مذمت کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمگیر مسئلہ ہے، پاکستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کی نظیر نہیں ملتی۔
انہوں نے پاکستان میں حملوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کے بارے میں وفد کو آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان سے حملوں کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے، اس کو ہر صورت روکنا ہو گا، پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن کردار ادا کر رہا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا مرحلہ وار آغاز کیا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانونی دستاویزات کے حامل افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، ویزا اور دیگر قانونی دستاویزات کے بغیر کسی کو پاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جلد افغان مہاجرین کی واپسی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے افغان مہاجرین کی بحالی کے لئےاقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کے کردار کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان نے افغان مہاجرین اور دوحہ ڈائیلاگ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی مستقل بحالی پر افغان حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔



















