مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز جیسے ادارے کو کرپشن کی نظر کر دیا گیا ہے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبے میں موجود یوٹیلیٹی اسٹورز کو فعال رکھنے کیلئے کل مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق سے صوبے میں واقع یوٹیلیٹی اسٹورز کے ملازمین اور اثاثہ جات مانگنے کیلئے بات چیت کی جائے گی، خیبرپختونخوا میں واقع یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین کو کنٹریکٹ پر رکھا جا سکتا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اجلاس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کا ڈیٹا معلوم ہونے کے بعد اثاثہ جات اور ملازمین کو صوبے میں رکھا جائے، مشاورتی اجلاس میں صوبائی وزراء اور بیوروکریسی نے شرکت کی تھی۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ محکمہ فنانس کو خیبرپختونخوا کے یوٹیلیٹی اسٹورز کا ڈیٹا اکھٹا کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا، خیبرپختونخوا کے 14 ریجنز میں 817 یوٹیلیٹی اسٹورز قائم ہیں، صوبے میں 2 یوٹیلیٹی اسٹورز ذاتی مالیت کے، 30 رینٹ فری اور 785 کرایے پر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے یوٹیلیٹی اسٹورز میں کل 2249 ملازمین کام کر رہے ہیں، صوبے میں قائم یوٹیلیٹی اسٹورز کا ڈیٹا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے حوالے کیا جائے گا، سفارشی اور نااہل ملازمین کو بھی دیکھا جائے گا، لیکن کوشش ہوگی سب کو کنٹریکٹ پر رکھیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز جیسے ادارے کو کرپشن کی نظر کر دیا گیا ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز کے اثاثہ جات اور ملازمین کیلئے دوسرے صوبے بھی خیبرپختونخوا کے طرز پر اقدامات کریں۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاق یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین اور اثاثہ جات مانگنے پر خیبرپختونخوا حکومت کو منع بھی کرے گی، اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کی تجویز پر عمل کرتی ہے تو پرانے بقایاجات کے اپنے ذمہ دار ہونگے۔



















