Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایم کیو ایم کا کے الیکٹرک کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ

کراچی: ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کہتے ہیں کہ آج ہم کے الیکٹرک کا ظلم بند کراکر جائیں گے، ہم کیا شریف ہوئے کے الیکٹرک بدمعاش ہوگئی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے شہر قائد میں کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے جس سے فاروق ستار سمیت کئی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

کے الیکٹرک اور ایم کیو ایم رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے لیے فاروق ستار اور علی خورشیدی مرکزی ہیڈ آفس میں داخل ہوگئے ہیں جب کہ کے الیکٹرک کے مرکزی دروازے کے باہر ایم کیو ایم کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے۔

اس سے قبل احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی کو مبارک باد پیش کرتا ہو اس تاریخی احتجاجی مظاہرے کے لئے، اس سے قبل مظاہریا اور جلسیا ہوتی تھیں جب کہ یہ غیور کراچی کے عوام ہیں جو غیرت کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو یزیت وقت ہے وہ کے الیکٹرک ہے، صوبے کے پچانوے فیصد ٹیکس دینے والے شہر میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے، آج کا بنیادی مطالبہ ہے کہ کے ای ظلم کو بند کرو۔ ایم کیو ایم نے بہت صبر کا مظاہرہ کیا، کئی بار کے الیکٹرک انتظامیہ سے رابطہ کیا اور کئی دنوں بعد جواب آتا ہے جب کہ لالچ اور پیسے کی حوس نے کراچی والوں پر قیامت ڈھائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا مظاہرہ ہے جو کے الیکٹرک کے مرکزی دروازے پر کیا جارہا ہے، کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب لاکھوں صارفین یہاں احتجاج کریں گے۔ پندرہ دن کی تیاری سے آئے تو لاکھوں صارفین ساتھ لا کر احتجاج کریں گے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملکی برآمدات کا آدھا حصہ کراچی سے ہے، جی ڈی پی میں کراچی کا حصہ 40 فیصد سے زائد ہے جب کہ غیر قانونی بلز شہریوں کو بھیجے جارہے ہیں۔ کے الیکٹرک اپنے بجلی کے نرخ کم کرو اور فیول ایڈجسمنث ختم کرو، ساڑھے تین روہے گردشی قرضوں کا بوجھ بھی کراچی والے برداشت کررہے ہیں کیوں؟، آج ہم کے الیکٹرک کا ظلم بند کراکر جائیں گے۔

ایم کیو ایم رہنما کہتے ہیں کہ جنریشن اور ترسیل کے ساتھ تقسیم بھی کے الیکٹرک کے پاس ہے، بارشوں میں آج بھی کراچی کے نوجوانوں کو کرنٹ لگا ہے اور وہ لقمہ اجل بن گئے۔ جیسے میرے اس شہر کے بچے اس شہر سے گئے پھر تمھارے ساتھ بھی فیصلہ کراچی والوں نے کیا تو ہمارا بھی متہ گھوم گیا۔

فاروق ستار احتجاجی نے مظاہرے سے خطاب میں مزید کہا کہ وزیراعظم سے ہم نے ملاقات کی ہے اور انہیں کے الیکٹرک کے ظلم کی داستان سنائی ہے، وفاق نے صنعت کاروں کو 42 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے تو ہم کراچی والے کہاں جائیں جب کہ تھرکول میں 4 روہے فی یونٹ بجلی بنتی ہے لیکن کراچی والوں کو بجلی انتہائی مہنگی ملتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تھرکول کی تین ہزار میگاواٹ 4 روپے فی یونٹ کی بجلی کراچی والوں کو کیوں نہیں ملتی، مقامی کوئلہ خرید کر بجلی کی پیداوار کرو۔  کراچی کی ضرورت زیادہ سے زیادہ 2200 میگاواٹ ہے۔ 900 میگاواٹ کا پلانٹ لگایا ہے اسے شیر شاہ میں فروخت کردو۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج ہم نے یہاں سے نا اٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، جب تک مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تب تک احتجاج جاری رہے گا۔ ہم کے الیکٹرک انتظامیہ سے مذاکرات کرنے جارہے ہیں اور ایک گھنٹے تک باہر نا آئے تو آپ پر کوئی پابندی نہیں۔

متعلقہ خبریں