Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلحہ اٹھاکر دین کی بات کرنے والے گمراہ ہیں، محسن نقوی

وزیرداخلہ محسن نقوی کہا کہ اسلحہ اٹھاکردین کی بات کرنے والے گمراہ ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولاناعبدالخبیر آزاد کی زیر قیادت تمام مکاتب فکر کے علما کرام اور دیگر مذاہب عالم کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے علماء کرام اور دیگر مذاہب عالم کے رہنماوں سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے علماء کرام اور دیگر مذاہب عالم کے رہنماوں سے مشاورت کا آغاز کیا گیا ہے۔

 محسن نقوی نے کہا کہ میں اور وفاقی وزیر مذہبی امور سالک حسین اس قومی مشن کو آگے لے کر چلیں گے، سب سے پہلے ہم سب پاکستانی ہیں اور سب سے پہلے پاکستان ہے، ہمیں جس آگ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ہم نے اس سے نکلنا ہے، علماء کرام اور دیگر رہنماؤں  کی مدد سے ہی ہم اس آگ سے نکل سکتے ہیں۔

 محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہم سب کو بحیثیت قوم اکٹھا ہونا ہو گا، اسلام اور دین کو استعمال کر کے لوگوں کو ورغلا کر دہشت گردی میں ملوث عناصر کا راستہ روکنا ہو گا، ریاست کے خلاف ہتھیاراٹھانے والا شخص یا تنظیم  دہشت گرد ہے، ہمارا دین بھی اور آئین بھی واضح طورپر کہتا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا دہشتگرد ہے۔

 محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ کسی کو کسی بھی طور قتل کرنے کی اسلام اور ہمارے ملک کے قانون میں قطعاً اجازت نہیں، ہم نے ملک کی خاطر دہشتگردی کی لعنت کے خلاف متحد ہونا ہے، ہم  یکجہتی اوراتحاد کا پیغام دیں گے تو اس کا اثر بہت زیادہ ہو گا اور مضبوط پیغام جائے گا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ 6 ستمبر کے حوالے سے ہم آج بھی ان لوگوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیں، آج بھی کہتے ہیں کہ ریاست کو مانیں۔ آئین کو مانیں اور  قانون کو مانیں، آج بھی ان کے پاس موقع ہے، ہم ہر صوبے میں جائیں گے، وزرائے اعلی اور علماء سے ملیں گے،  یہی پیغام صوبائی دارالخلافوں سے بھی دیں گے۔

 محسن نقوی نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم سے ملاقاتوں میں بھی یہی پیغام پہنچائیں گے، صدرمملکت اور وزیراعظم بھی اس مقصد کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں، ہمیں اسلام کے نام کا غلط استعمال بند کرانا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ دین کے اصل رہنما علماء کرام اور مشائخ عظام ہیں ناکہ وہ لوگ جو ریاست کے خلاف بندوق اٹھا کر پھر رہے ہیں، آج ہم قوم کو یہ پیغام دیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور اس سلسلے میں ہرممکن معاونت فراہم کریں گے، دہشت گردی سے متعلق آپ کی تجاویز پرعمل بھی کرایا جائے گا، خاص طور پر مولاناعبدالخبیر آزاد  کا شکریہ جنہوں نے آپ سب کو یہاں اکٹھا کیا، دہشت گردی کے خلاف متفقہ پیغام انتہائی ضروری ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ہم نے مل کر نئی نسل کو بارود اور آگ کے کھیل سے بچانا ہے، نئی نسل کو محفوظ مستقبل دینے کے لیے حکومت، اداروں اور علماء کرام نے مل کر کام کرنا ہے، پاکستان کے لئے سب کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔

 سالک حسین نے کہا کہ ہرپاکستانی کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، علماء کرام اورمشائخ عظام لوگوں کی اصلاح کریں اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

مولانا عبدالخیبر آزاد نے بھی اس موقع پرعلماء کرام اور دیگر مذاہب عالم کے رہنماوں سے خطاب  کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل کرپاکستان کوبچانا ہے، ہتھیاراٹھانے والے دہشت گرد ہیں، مولاناعبدالخبیرآزاد نے کہا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کاقتل ہے، ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے۔

ملاقات کے بعد متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں علماء کرام و مشائخ عظام نے ملک میں انتہاء پسندوں اوردہشت گردوں کے بیانیہ کو یکسر مسترد کردیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسلام دین امن ہے جو احترام انسانیت اور تشدد سے پاک معاشرہ کا درس دیتا ہے، موجودہ ملکی حالات میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے، کسی کو بے جا قتل کرنے کی اسلام قطعاَ اس کی اجازت نہیں دیتا۔

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ وطن عزیز پاکستان کیلئے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پوری قوم اپنی بہادراور نڈر مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، اسلام اقلیتوں،خواتین اور بچوں کے حقوق کا ضامن ہے۔

 اعلامیہ میں کہا گیا کہ پیغام پاکستان، پاکستان کا وہ عظیم بیانیہ ہے جس کو منبر ومحراب کے ذریعے ہرگھر کی آواز بنا دیں گے، یہ وقت ملک کے اندر انتشار کا نہیں بلکہ اتحاد و اتفاق اور قوم اور اُمت کو جوڑنے کا ہے۔

ملاقات میں مولانا ضیاء الرحمن امام فیصل مسجد، مولانا محمدطیب قریشی چیف خطیب خیبرپختونخوا، علامہ مختیار احمد ندیم چیف خطیب پنجاب، علامہ شبیر حسن  سیکرٹری جنرل شعیہ علماء کونسل پاکستان، علامہ عارف حسین واحدی، مفتی گلزار احمد نعیمی، مولانا تنویر احمد علوی، مولانا سردار محمد لغاری،مفتی فرحان نعیم، مولانا عبدالظاہرفاروقی، مولانا عبدالعزیز، مولانا ہارون الرشید بالاکوٹی، علامہ سجاد حسین نقوی، علامہ مصطفی حیدر نقوی، مولانا حسین علی،مفتی یوسف کشمیری، مولانا مقصود احمد توحیدی، مولانا عابد اسرار، قاری بلال گولڑوی، سردار رنجیت سنگھ گیانی، مولانا اکرام الٰہی ظہیر، مولانا عبدالسلام جلالی، مفتی ابو بکر صدیق، علامہ سعید احمد اعوان، مولانا ملک امجد اعوان، ڈاکٹر ارشاد احمد خان، صاحبزادہ عتیق اللہ مظہر، بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، پیر ممتاز احمد ضیاء نظامی، مولانا محمد اقبال نعیمی، علامہ محمد رشید ترابی، فہد جمیل، پروفیسر ظفراللہ جان و دیگر راہنماء شریک تھے۔

اس کے علاوہ وفاقی سیکرٹری داخلہ۔ چیف کمشنر اسلام آباد۔ آئی جی پولیس اسلام آباد۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

متعلقہ خبریں