اسلام آباد: حکومت کی طرف سے عدلیہ کے حوالے سے اہم قانون سازی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کو وفاقی حکومت کی حمایت نہ کرنے پر قائم رکھنے کی کوشش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اہم رکن اسد قیصر کی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات ہوئی، تاہم مولانا فضل الرحمان اور اسد قیصر کی ملاقات پی ٹی آئی جلسہ سے دو روز قبل ہوئی۔
ملاقات کے دوران جے یو آئی نے پی ٹی آئی قیادت سے ترجمان کے پی کے بیرسٹر محمد علی سیف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے سینئر رکن اسد قیصر نے جے یو آئی کو بیرسٹر سیف سمیت دیگر جے یو آئی مخالف آوازوں کو چپ کرانے کی ذمہ داری لے لی۔
ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں اسد قیصر نے مولانا فضل الرحمان سے حکومتی آئینی ترمیم کی حمایت نہ کرنے کی درخواست کی۔
اس دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کے پاس ابھی تک کوئی آئینی ڈرافٹ حکومت کی طرف سے نہیں آیا، پی ٹی آئی کے پاس کوئی مجوزہ آئینی ڈرافٹ ہے تو جے یو آئی سے شیئر کرے تاکہ اسے دیکھ کر مشاورت کی جاسکے۔
مولانا فضل الرحمان نے اسد قیصر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی سے حکومت نے آئینی ترمیم پر کچھ شیئر نہیں کیا۔



















