سندھ اسمبلی اجلاس میں ارسا ایکٹ میں ترمیم کے خلاف قرارداد پیش کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی اجلاس میں ارسا ایکٹ میں ترمیم کے خلاف قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ ارسا ایکٹ میں ترمیم سندھ کے عوام کو قبول نہیں ہے۔
وزیرداخلہ سندھ و وزیر پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ پانی سندھ کی لائف لائن ہے ، پانی سے زیادہ کوئی اہم ایشو نہیں ہے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ پانی پر جنگ ہوجاتی ہے، پانی زندگی ہے ۔ پانی کی تقسیم کے معاہدے اور ارسا ایکٹ میں ترمیم قابل قبول نہیں ہے۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ پانی کی تقسیم کا طریقہ کار طے ہوا، ارسا اکارڈ کے تحت ہر صوبے کو اپنا پانی جمع کرنی کی اجازت دی گئی۔اتنا سارا پانی ملنے کے باوجود میرے سندھ کی زمینیں غیر آباد ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کتنے ایسے علاقے ہیں جہاں پانی روٹیشن پر ملتا ہے۔
نثار کھوڑو نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی نے تاریخی کردار ادا کیا ،پاکستان اور سندھ کو بچایا۔کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر بلوچستان اور کے پی نے بھی ہمارا ساتھ دیا اور انہوں نے قراردادیں پاس کیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کا بیٹا ہونے کا فرض نبھایا اور تحریک التواء جمع کروائی تھی۔ فیڈریشن سے اپنا حق لینا جانتا ہوں۔



















