وزیرِاعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ عصرِحاضرمیں ٹیکنالوجی میں جدت ترقی کی ضمانت ہے۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سمٹ آف دی فیوچرسے پہلے نمیبیا کے صدر نانگولو بمبااور جرمن چانسلر اولاف شولز کی میزبانی میں ورچوئل اجلاس گلوبل کال میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے عالمی چیلنجزاور بڑھتی ہوئی کشیدگیوں سے دنیا کے منقسم ہونے کا خطرہ ہے۔
وزیرِاعظم نے ورچوئل اجلاس میں عالمی رہنماؤں کو معاشی طور پر کمزور ممالک کیلئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے پلان پیش کردیا۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ نئے عالمی چیلنجزاوربڑھتی ہوئی کشیدگیوں سے دنیا منقسم ہونے کا خطرہ ہے، دنیا کو متحد کرنے کیلئے مساوات اور انصاف ضروری ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ غزہ کے مسلمانوں کی مصیبتیں عالمی اتحاد کی کھلم کھلا تضحیک ہیں، معاشی طور پر کمزور ممالک پر قرضوں کے انبار، غربت میں اضافہ عالمی اتحاد میں رکاوٹ ہیں۔
وزیرِاعظم نے ورچول اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی تقسیم، عدم برداشت، دہشتگردی، غیر قانونی غاصبانہ قبضے اور موسمیاتی تبدیلی پرغیرسنجیدگی عالمی اتحاد میں رکاوٹیں ہیں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کیلئے عالمی معاشی ڈھانچے کی اصلاحات ضروری ہیں، رعایتی قرضے، رسمی ترقیاتی معاونت (ODA) اور ترقیاتی بینکوں سے قرضوں میں اضافہ معاشی طور پر کمزور ممالک میں پائیدار ترقی کیلئے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو ترقیاتی سرمایہ کاری کے جدید طریقوں کے بارے میں سوچنا ہوگا، واجب الادا قرضوں کی موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے کی اجازت اور قرضوں کی مساویانہ معافی ان جدید طریقوں میں شامل ہیں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ہر شخص، بالخصوص کرہ ارض کے جنوبی ممالک میں ہرشہری کی جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کلیدی اہمیت کی حامل ہے، ہمیں دنیا کو ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بھی محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ناانصافی اورعدم مساوات مقامی اور بین الاقوامی سطح پر برے عناصر کو استحصال کا موقع دیتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اورقرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی اقوام، دہشتگردی اور غلط معلومات کے چیلنجز سے دوچار ممالک سب سے ذیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ان تمام خطرات کو دور کرنے کیلئے عالمی اتحاد و تعاون انتہائی ناگزیر ہوچکا ہے، سمٹ آف دی فیوچرعالمی تعاون کے پرچار کیلئے ایک اہم موقع ہے جسے ہمیں ضائع نہیں کرنا چاہئیے۔
اجلاس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خطاب کیا۔
واضح رہے کہ 22 اور 23 ستمبرکو اقوامِ متحدہ کے تحت منعقد ہونے والے اجلاس، سمٹ آف دی فیوچر میں مستقبل کیلئے پائیدار ترقی، ترقیاتی سرمایہ کاری، عالمی امن و سلامتی، سائنس و ٹیکنالوجی، جدت و ڈیجیٹل تعاون، نوجوان و آئندہ نسلوں کے مستقبل اورعالمی گورننس میں بدلاؤ پر حکومتوں کے مابین عملی اقدامات پر مشتمل ایک مستقبل کا معاہدہ (Pact for the Future) طے پائے گا۔



















