اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ پارلیمان ہر قسم کی ترمیم کر سکتا ہے اگر نمبر پورے ہوں۔
اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں باز گشت ہے کہ کوئی آئینی ترامیم لائی جارہی ہے، وہ قوانین جو ملک کو چلانے میں مدد دیتے ہیں، یہ ہاؤس کی بنیادی ذمہ داری ہے، یہ آئینی و قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا تو فخر کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی قانون سازی کے لیے ہمیں یہاں بل پکڑا دیے جاتے ہیں، پڑھے بغیر پاس کردیے جاتے، بل بلڈوز کیے جاتے ہیں، متعلقہ کمیٹیوں کو بل نہیں بھیجے جاتے۔
شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن کے فوری بعد کامیاب امیدوار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، ہر قانون میں پوری بحث ہو، آئین میں ہوئی ترمیم معمولی نہیں ہے، اجلاس کیوں بلایا گیا؟ آپ سے آئین میں ترمیم کیلئے نمبر پورے نہیں ہورہے؟ آپ نکاح بالجبر کررہے ہیں، وزیر قانون ایوان میں موجود نہیں ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلوچستان امن وامان کی خطرناک صورتحال میں ہے، بلوچستان کے لوگوں نے اصل قربانیاں دیں، بلوچستان کے لوگوں کے کاروبار، پراپرٹی تباہ ہوئی، پارلیمان ہر قسم کی ترمیم کر سکتا ہے اگر نمبر پورے ہوں، مگر آئین کی روح کو پامال کیا جائے تو یہ کیسی قانون سازی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو کام چھپ کر لیا جائے وہ غلط ہوتا ہے، اچھا کام دن کے اجالے میں کیا جاتا ہے رات کے اندھیروں میں نہیں، ہم جتنے سلیکٹڈ لوگ ہیں ذمہ داری بھی اتنی بڑی ہوتی ہے، پچھلے دنوں جتنی قانون سازی ہوئی کون سی عوام کے لئے ہوئی؟
شبلی فراز نے کہا کہ ہم جلدی میں چیزیں کرنا چاہتے ہیں، فورس استعمال کرنا چاہتے ہیں، سارا ملک دیکھ رہا ہے کتنی جلدی میں ہیں، کسی کو کہیں سے بلا رہے ہیں کسی کو کہیں سے۔



















