پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ہم آئینی بل کو پارلیمانی کمیٹی میں ضرور دیکھیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آئینی ترمیم میں ووٹ کے لیے ہمارے زبردستی لائے گئے ارکان کو پنجاب ہاؤس میں رکھا گیا، جس طرح کی یہ قانون سازی کی جارہی تھی تو اس سے مرنا بہتر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کو ڈنڈا آتا ہے تو یہ بھاگنا شروع کردیتے ہیں، پارلیمنٹ کی مضبوطی ہوگی تو ہم ساتھ دیں گے، عدلیہ کے حوالے سے قانون سازی ہم بھی کرنا چاہتے ہیں، وزیر قانون صاحب اپنے ضمیر کے مطابق کیا آپ ایسی ترمیم کے حق میں ہوسکتے ہیں؟
اسد قیصر نے کہا کہ آپ کی جدوجہد کیا اس چیز کے لیے تھی، ہم آئینی بل کو پارلیمانی کمیٹی میں ضرور دیکھیں گے، ہم اس ایوان کی بالادستی کے لئے سب کچھ کریں گے مگررات کے اندھیرے میں چوری نہیں ہونے دیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ تارڑ صاحب آپ کا بہت احترام ہے، بتائیں جو کر رہے تھے وہ آپکی پوری زندگی کی جدوجہد کے خلاف نہیں، اگر عدلیہ پر وار کیا گیا تو ہم مزاحمت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چوراہوں میں لڑیں گے، چوکوں میں لڑیں گے اور گلی محلے میں لڑیں گے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، یہ تو بنیادی انسانی حقوق کو بھی سلب کرنا چاہتے ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ کیا اپوزیشن کوئی اس ملک کی دشمن ہے، ہم کیا عوام کی بہتری نہیں چاہتے، ہم کہتے ہیں آپ ترامیم لائیں پہلے یہاں ایوان میں ڈسکس تو کریں، کیا چھٹی والے دن ترامیم لانے کی کوشش چوری اور ڈاکہ نہیں؟
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ فضل الرحمان نے جیسے حالات کا مقابلہ کیا انہیں سلام پیش کرتا ہوں، پارلیمنٹ کی بے توقیری پرافسوس ہے، ہمارےارکان نے بہادری سے صورتحال کا مقابلہ کیا۔



















