رہنما مسلم لیک ن پرویز رشید کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں تعداد کے ساتھ ساتھ اتفاق رائے کا ہونا بھی ضروری ہے۔
رہنما مسلم لیک ن پرویز رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری عمل صبر آزما ہوتا ہے، اس میں نمبر گیم نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے، جمہوریت میں تعداد کے ساتھ ساتھ اتفاق رائے کا ہونا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس ایک ووٹ بھی ہو تو اس کو اعتماد میں لینا بھی اچھی جمہوریت کہلاتا ہے، کل کوشش کی گئی کہ سب کو اعتماد میں لیں لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں جن پر بات کرنا باقی ہے، جب ایک اتفاق رائے کا مسودہ تیار ہو جائے گا تو اس پر عمل بھی ہو جائے گا۔
پرویز رشید نے کہا کہ یہ حکومت کی ناکامی نہیں ہے، 1947 میں پاکستان بنا اور 1973 میں آئین آیا تو کتنا وقت لگا آئین حاصل کرنے میں؟



















