Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کرلیا

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 منظور کر لیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سرکولیشن سمری پر آرڈیننس کی منظوری دی، تاہم گزشتہ روز وزارت قانون نے آرڈیننس تیار کر کے وزیراعظم اور کابینہ کو بھجوایا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے چیف جسٹس کے مقدمات کو مقرر کرنے کا اختیار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کسی کمیٹی رکن کی عدم دستیابی پر چیف جسٹس کسی جج کو کمیٹی کا رکن نامزد کر سکیں گے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت تین رکنی کمیٹی بینچز تشکیل دیتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی جلد منظوری کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس سے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے مقدمات مقرر کرنے میں اختیار بڑھ جائے گا۔

وزارت قانون کی جانب سے آرڈیننس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس، سپریم کورٹ کا سینئیر جج اور چیف جسٹس کا مقرر کردہ جج کیس مقرر کرے گا، اس سے پہلے قانون میں چیف جسٹس اور دو سینئیر ترین ججوں کا تین رکنی بینچ مقدمات مقرر کرتا تھا۔

آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی۔

وزارت قانون نے آرڈیننس میں مزید کہا تھا کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا، تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کیلئے دستیاب ہوں گی۔

متعلقہ خبریں