نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تھیں، ہم نے ان کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں، معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کے صدر کے ساتھ ملاقات میں سیر حاصل گفتگو ہوئی، آج اقوام متحدہ میں ترکیہ کے صدر نے انتہائی پرجوش خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے صدر نے فلسطین کا مسئلہ جس طرح بیان کیا، اس نے پورے ہال میں موجود لوگوں کے دلوں کو چھوا، ترکیہ کے صدر کو ان کے خطاب پر مبارکباد پیش کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات ہیں، ترکیہ کے صدر بہت جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔
انکا کہنا تھا کہ کل آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ ہے، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تھیں، ہم نے ان کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، ان کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، آئی ایم ایف کی کچھ شرائط کا تعلق چین سے تھا، چینی حکومت نے ماضی کی طرح دوبارہ پاکستان کا ہاتھ مضبوط کیا، چینی لیڈر شپ کا شکر گزار ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشی چیلنجز کو ہم نے قبول کیا، اللہ تعالیٰ کا بے پناہ فضل و کرم سے حکومت اور تمام اداروں کی اجتماعی کاوشوں سے معاشی چیلنجز پر قابو پایا، معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، دعا ہے اللہ تعالیٰ ہماری سمت درست رکھے اور ہمیں پاکستان کے عوام کی حتی المقدور خدمت کرنے کی توفیق دے۔
وزیراعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ہوئی، اس دوران دونوں رہنماؤں کی جانب سے مختلف معاملات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم کا ایس ڈی جی مومنٹ کے موضوع پر مباحثے سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پائیدار ترقی کے اہداف پر ایس ڈی جی مومنٹ کے موضوع پر مباحثہ ہوا، جس میں وزیر اعظم نے پینل میں بیٹھ کر اظہار خیال کیا۔
وزیر اعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیروت میں حالیہ حملہ اس جنگی تھیٹر کو وسعت دینے کی ایک چال کے سوا کچھ نہیں، بیروت پر حملہ امن پسند دنیا کے لیے تباہ کن ہے، ہم سب کو کی مذمت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلی تو اس کے دنیا کے لئے بہت سنگین نتائج ہوں گے، دو ریاستی حل اور فوری جنگ بندی بحران کا واحد حل ہے۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان نے 2022 میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اپنی تاریخ کا بدترین سیلاب دیکھا جس کے نتیجے میں 30 ارب ڈالر کا تخمینہ معاشی نقصان ہوا، ترقی یافتہ اور امیر ممالک کاربن کے اخراج کے ذمہ دار ہیں اور انہیں ترقی پذیر معاشروں کی مدد کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔



















