میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ صرف پائپ نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ سڑکیں بھی تعمیر کریں گے۔
میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی واٹر کارپوریشن کے منصوبے کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی میں جو منصوبے مکمل کئے ہیں، اس کے لئے ایک ادارہ سینٹر فار ریفارم اینڈ اینویشن بنانے جا رہے ہیں، یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔
میئر کراچی نے کہا کہ اہم سنگ میل پانی کے شعبے ٹیکنالوجی سے مستفید ہوسکیں گے، 29 کلورینیشن سینٹر پر کام کرچکے ہیں ، دسمبر2024 تک کلورینیشن سینٹر فعال ہوجائیں گے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ چار نئے کسٹمر فیسیلیٹیشن سینٹر کراچی میں قائم کریں گے، ہمیں عام آدمی کی خدمت کرنی ہے، کراچی شہر میں پانی کی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔
میئرکراچی نے کہا کہ لائن لاسز کو ختم کرنے کے لیے دھابیجی پر کام چل رہا ہے، ہزاروں لاکھوں گیلن پانی کو ضائع ہونے سے بچانا ہے، جبکہ شہرمیں پانی کی کمی ہے، ڈپٹی میئر نے دورہ کیا تو پتا چلا کہ لائنوں میں لیکج تھیں۔
مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ بھی کررہی ہے، دھابیجی اور پپری میں کام چل رہا ہے، جبکہ مارچ 2025 تک یہ کام ہوجائے گا تو پانی کی بچت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
میئرکراچی نے کہا کہ پانی کی بلنگ کی شکایت آتی ہے، اس منصوبے کے ذریعے پہلے فیز میں 4333 رہائشی اور کمرشل کسٹمر ز کے لئے میٹرز نصب کریں گے، پانی اور معاوضے کی شفافیت ہوگی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے فوراوگمینٹیشن کا لیٹر جاری ہو گیا ہے، جبکہ 70 ارب روپے کی لاگت سے نیا انفراسٹرکچر شہر میں ڈالا جائے گا۔
میئرکراچی نے کہا کہ پارٹی چیئرمین نے وعدہ کیا تھا الیکشن میں پانی و سیوریج کے مسائل حل کریں گے، چیئرمین کا وعدہ وفا کررہے ہیں، حب ڈیم سے نئی کنال 13 ارب روپے کی لاگت سے کام شروع کردیا ہے، بارہ مہینے میں حب ڈیم سے دو سو ملین گیلن پانی لایا جائے گا، ابھی موجودہ پچاس ایم جی ڈی پانی لے پاتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ضلع غربی، وسطی اور اورنگی اور کیماڑی کی عوام کا اس پانی سے بھلا ہوگا، مجھے اندازہ ہے بارش کے بعد عوام مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ سیوریج کے مسائل کو حل کرنے کے لئے تیزی سے کام ہورہا ہے۔
میئرکراچی نے کہا کہ 40 نیلی گاڑیاں سیوریج کے مسائل کے حل کے لئے کام کر رہی ہیں، ہم صرف پریس کانفرنس نہیں کرتے جو کام کر رہے ہیں یہ بتانے کے لئے پریس کانفرنس کرتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی 106 مرکزی سڑکوں پر کام شروع ہوچکا ہے، کچھ سڑکوں کی تعمیر کا کام جاری ہے، باقی سڑکوں کی تعمیر بھی جلد شروع کردی جائے گی۔
میئرکراچی نے کہا کہ وزیراعلیٰ ٹاونز کے مسائل حل کرنے کے لئے وزیر بلدیات کو ہدایت دے چکے ہیں، کچھ ٹاونز کام کر رہے ہیں کچھ ہاتھ پر ہاتھ رکھے مکھیاں مار رہے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ مرغی خانہ برج کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہے، مرغی خانہ برج کے لئے سمری بھیج چکے ہیں، مرغی خانے پر 4 لائن کا نیا برج بنایا جائے گا۔
میئرکراچی نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ جو اقوام اپنی اصلاح کرنا چھوڑ دے وہ آگے نہیں بڑھ سکتی، میرا ماننا ہے ہمارا عدالتی نظام اوور برڈن ہوچکا ہے، عدالت میں زیر سماعت مقدمات سالا سال التوی کا شکار رہتے ہیں، یہ سارا قصور ہمارے نظام کا ہے، ہم چاہتے ہیں یہ نظام صحیح ہو۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ افتخار چوہدری وہ کہتے تھے سب کچھ ہم خود کریں گے، اپنا اسٹاف بھی وہ طے کرتے ہیں، وزیراعلی یا کوئی بھی سوال نہیں پوچھ سکتا کہ سات دنوں میں فیصلہ کرنا تھا کیوں نہیں ہوا، پروین رحمان شہادت کا فیصلہ نو سال بعد ہوا۔
میئرکراچی نے کہا کہ ہم کنٹیمٹ سے ڈرتے ہیں بولتے ہوئے گھبراتے ہیں آئین پاکستان کہتا ہے یہ اختیار منتخب نمائندوں کوکرنا ہے، مسلم لیگ، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی یا کوئی بھی سیاسی قیادت سب چاہتے ہیں آئینی عدالت ہونی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سب کتراتے ہیں فیصلہ کرنے میں، ہمارا کام نظام کو وضح کرنا ہے، پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے مابین بات چل رہی ہے، مسودہ پارلیمان میں پیش ہوگا تو کام ہوجائے گا۔
میئر کراچی نے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ معاملے کو سیاسی بنایا جارہا ہے، جج صاحبان اپنی آئینی ذمہ داری نبھائیں، جج صاحبان کی عزت ہم پر واجب ہے، جج صاحبان کو سیاسی اکھاڑے میں نہ اتارا جائے، آئین میں لکھا ہے کہ اگر کسی کو کسی سیاسی جماعت کو جوائن کرنا ہے تو تین دن میں کریں، اگر کوئی اس سیاسی جماعت کو چھوڑتا ہے تو قانون کی شق 63 لاگو ہوتی ہے۔



















