سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ منشیات فروش کوئی بھی ہو اس کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایا پر انسداد منشیات کے لئے تشکیل دی گئی ہائی پاورڈ کمیٹی کا سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت دوسرا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں تمام صوبوں اور وفاق میں منشیات کے حوالے سے انٹیلیجنس شیئرنگ اور کوآرڈینیشن بڑھانے کے لئے فیوژن سینٹر کی تشکیل کا فیصلہ ہوا۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے انسداد منشیات ہائی پاورڈ کمیٹی کا اجلاس ہر پندرہ روز میں بلانے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں سیکریٹری ایکسائز محمد سلیم راجپوت، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ، کمانڈر اے این ایف برگیڈیئر عمر، ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر اور دیگر شریک ہوئے۔
سندھ پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے حکام نے منشیات کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ دی۔
اجلاس کو آگاہی دی گئی کہ بحالی مراکز میں درخواست دینے والوں کی تعداد 9 ہزار تک پہنچ چکی ہے، تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی میں ملوث 13 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کے لئے محکمہ صحت سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وفاق سے بات کی جائے گی، ہر صوبے اور وفاق میں فیوژن سینٹر بننا چاہئے، منشیات کے خلاف حکومت سندھ کی مہم جاری ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے مختلف اجلاسوں میں منشیات کے خاتمہ یقینی بنانے کے لئے ہدایات جاری کی ہیں، حکومت سندھ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، یہ ہماری نئی نسل کی بقا کا سوال ہے، منشیات کے خلاف تمام اسٹیک ہولڈرز کو متحد ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بہترین نتائج کے حصول کے لئے سب کو متحد ہونا پڑے گا، منشیات کے خلاف کسی بھی قسم کی تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، تعلیمی اداروں میں منشیات کے ٹیسٹ ہونگے، ہمارا مقصد کسی کو شرمندہ کرنا نہیں ہے، منشیات کے متحد ہو کر جنگ نہیں کی تو یہ لعنت کسی بھی ہمارے دروازوں پر بھی دستک دے سکتی ہے۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ گھروں کے اندر اور پارٹیز میں کھلے عام منشیات کا استعمال ہو رہا ہے، معاشرے میں ہر طرح کے لوگ منشیات کا استعمال کر رہے ہیں، فوری اقدامات کرنے ہونگے، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ منشیات بہت بڑا چیلنج ہے، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ منشیات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے، منشیات پورے ملک کا مسئلہ بن چکا ہے، اس کے خاتمے کے لئے ہر مکتبہ فکر کو کوششیں کرنی ہونگی، بحالی مراکز کو فعال کیا جائے، منشیات کے اہم ترین ٹھکانوں کا پتہ لگار کر ان کا خاتمہ کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ منشیات فروش کوئی بھی ہو اس کو معاف نہیں کیا جائے گا، بلا تفریق کارروائیاں ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی، جہاں پر بھی منشیات کے استعمال اور موجودگی کی اطلاع ملے گی چاہے وہ گھر، دکان یا کوئی محفل ہو, وہاں سخت ایکشن لیا جائے گا۔
یو این او ڈی سی کی جانب سے انسداد منشیات کے لئے حکومت سندھ کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی گئی۔



















