صوبائی وزیر توانائی، ترقیات و منصوبہ بندی ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ فرد واحد کیلئے کوئی قانون نہیں بن رہا۔
صوبائی وزیر توانائی، ترقیات و منصوبہ بندی ناصر حسین شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی چیئر مین بلاول بھٹو تفصیل سے آئینی عدالتوں کا بتا چکے ہیں، آئینی عدالتیں وقت کی ضرورت ہیں، ہزاروں کیسز التوا کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں آئینی عدالتیں ہوتی ہیں، پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہے، سیاسی کیسز کی وجہ سے عام آدمی کے مقدمات التوا کا شکار ہو جاتے ہیں، ذوالفقار بھٹو کا کیس ہی دیکھ لیں ہمیں کتنے سالوں بعد انصاف ملا ہے، مخصوص نشستوں کا بڑا چرچہ ہے، کہا جا رہا ہے کہ مکمل انصاف دیا گیا، ہمیں تو آج بھی بھٹو کیس میں مکمل انصاف نہیں ملا۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ کسی ایک جج کو نوازنے کیلئے آئینی عدالت بنائی جارہی ہے، فرد واحد کیلئے کوئی قانون نہیں بن رہا اور نہ ہی پیپلز پارٹی ایسے سپورٹ کرتی ہے، بلاول بھٹو کا مؤقف واضح ہے، کسی شخص کو سامنے رکھ کر قانون سازی نہیں ہوگی۔
صوبائی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ حکومت کو جوابدہ نہ ہو، آئینی عدالتیں وقت کی ضرورت ہیں، دنیا بھر میں آئینی عدالتیں موجود ہیں، بجلی کے زیادہ بل اور لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی پر بہت باتیں کی جارہی ہیں، شروع سے کہہ رہے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ میں بہتری لانی چاہیے، ہم نے یہ بھی کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا، اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل کرنا چاہیے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا جو ترمیم پاکستان اور اداروں کو سپورٹ کریگی حمایت کرینگے، ہم نے منشور میں 300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے کا کہا تھا، منشور کے مطابق مختلف کیٹگریز بنائی ہیں جس پر کام ہو رہا ہے، بینکوں سے بات چیت ہو رہی ہے، سولر پروجیکٹ سے بجلی دینگے۔



















