وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس محصولات بڑھانا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چئیر مین ایف بی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر ہیں، جبکہ ایکسپورٹس میں 29 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کامیابی سے مکمل کیا ہے، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم ملکی ترقی کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف حکام سے خوشگوار ملاقاتیں ہوئی، جبکہ ہماری اسٹاک مارکیٹ اس وقت بہترین پرفارم کر رہی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، مائیکرو اکنامک استحکام سے مضبوط معیشت کی بنیاد رکھ دی ہے، پرامید ہوں ایکسچینج ریٹ اور پالیسی ریٹ توقع کے مطابق رہیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا مقصد بھی معیشت کا استحکام ہے، نئے قرض پروگرام سے معیشت میں استحکام اور بہتری نظر آئے گی، یہ سب کچھ وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں سے ہو رہا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ دو وفاقی وزارتوں کو ضم ایک کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، مجموعی طور پر 6 وزارتوں سے متعلق فیصلہ کر لیا گیا ہے، وزارتوں کی رائٹ سائزنگ سے متعلق عملدرآمد کرنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی امیدوں پر پورا اتریں گے، کابینہ نے تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا کچھ مزید اقدامات لیے ہیں، گزشتہ سال کے مقابلے فائلرز کی تعداد دوگناہو گئی ہے، فائلرز کی تعداد 1.6 ملین سے بڑھ کر 3.2 ملین تک ہو گئی ے۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ رواں سال 7 لاکھ 23 ہزار نئے فائلرز سسٹم میں آئے، صوبے زمہ داریاں نبھائیں مہنگائی کو کنٹرول کریں، آئی ایم ایف پروگرام وفاق کا نہیں صوبوں کا بھی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نے اسٹرکچرل تبدیلیوں کی بات کی ہے، اسٹرکچرل تبدیلیوں کے بغیر بہتری نہیں آئے گی، ورلڈ بینک آئی ایم ایف سے کلائیمٹ فنانسنگ پرکھل کر بات ہوئی، ہمیں اب چند اہم مخصوص چیزوں پر فوکس کرنا ہوگا، ورلڈ بینک سے کلائیمٹ پر فنڈنگ اور ٹیکینیکل سپورٹ ملے گی۔



















