اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں مؤثر رابطہ کاری اور موسمیاتی لچکدار انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے پر توجہ دینے پر زور دیا ہے۔
صدر آصف زرداری نے “قدرتی آفات کے حوالے سے برداشت کے قومی دن” کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ ناقابل فراموش تباہی کا باعث بنا، زلزلے کے بعد قوم نے بےمثال استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے متاثرین زلزلہ کی دل کھول کر امداد کی، عالمی برادری، سول سوسائٹی اور فلاحی تنظیموں کے بھرپورتعاون پر مشکور ہیں۔
آصف زرداری نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر پاکستان کو قدرتی آفات سےلاحق خطرات بڑھ گئے، ضروری ہے کہ ہم قومی اور صوبائی ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹیز کی استعداد کار میں اضافہ کریں، اتحاد اور استقامت کے جذبے سے درپیش چیلنجز پر قابو پاسکتے ہیں۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے بےپناہ مضر اثرات کا سامنا کررہا ہے، وزیراعظم
دوسری جانب وزیر اعظم نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ 8 اکتوبر ہمیں 2005 کے تباہ کن زلزلے کی یاد دلاتا ہے، ایک عظیم سانحہ جو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر پر آیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری دلی دعائیں ان تمام لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے اس زلزلے میں جان و مال کا نقصان برداشت کیا، 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد، 2022 کا سیلاب ماضی کے تمام ریکارڈز تورنے والی ایک بڑی قدرتی آفت تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور اداروں نے تباہیوں اور بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے ہمیشہ بے پناہ عزم اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار نہ ہونے کے باوجود اس کے بے پناہ مضر اثرات کا سامنا کر رہا ہے، غیر متوقع تباہ کن قدرتی آفات کے بارہا وقوع پذیر ہونے سے پہلے سے ہی مسائل کا شکار ہماری معیشت کو تباہ کن دھچکا پہنچایا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کو اس کی محنت کے لیے سراہتا ہوں، این ڈی ایم اے نے ایسی قدرتی آفات کے لیے قومی ردعمل کے طور پر ایک پائیدار اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے قومی ردعمل کے کلیدی اجزاء میں آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے فعال طور پر کام کرنا شامل ہے، آفات سے نمٹنے کے لیے منظم طریقہ کار اور فریم ورک فراہم کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں قومی آفات سے نمٹنے کی بہترین صلاحیتیں موجود ہیں، اسٹیک ہولڈرز پر زور دیتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے کی استعداد اور صلاحیتوں کے بارے ہم آہنگی پیدا کریں۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ مؤثر تعاون، ہنگامی صورتحال کیلئے متبادل لائحہ عمل کی موجودگی اور دور دراز کے علاقوں تک آفات کے ممکنہ خطرات کی آگاہی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے انتہائی اہم ہے، ’قدرتی آفات کے حوالے سے برداشت کا دن‘ ہمارے لیے بہترین طریقوں کو اپنانے اور پالیسیوں و حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرنے کا دن ہے۔



















