وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ کچھ لوگوں کوغم ہےکہ معیشت سنبھل گئی تو ان کو کون پوچھےگا، اس لئے یہ لوگ ماردھاڑ، حالات خراب کرنےکی کوشش کررہےہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف سیکیورٹی کیلئےفورسزنےقربانیاں دی ہیں، بشام واقعے کے بعد چین کی طرف سے تشویش کا پیغام ملا تھا، چین کو ہم نے یقین دلایاتھا کہ چینی شہریوں کو فول پروف سیکیورٹی دی جائےگی۔
انہوں نے کہا کہ بشام واقعے کے بعد طے ہوا چینی شہر یوں کی سیکیورٹی کے مربوط انتظامات ہوں گے، چین جاکر حکومت کو انشورنس دی کہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیےجائیں گے، افسوس کی بات ہے یقین دہانی کے باوجودکراچی کاواقعہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 2 چینی انجینئر دہشت گرد حملے میں ہلاک ہوئے، پرسوں رات میری چینی سفیر سے فون پر بات ہوئی، پاکستان کی جڑوں کوکاٹنےکیلئےایک سازش کی گئی، میں نےکہا اجازت دیں جنرل راحیل سے ملتاہوں، نوازشریف نے کہا کیا کریں، میں نےکہااجازت دیں جنرل راحیل سےملتاہوں، چینی سفیرنےکہاچینی صدر کا دورہ ملتوی ہوچکا ہے۔
شہباز شریف نے چینی سفیر سےکہا آپ تھوڑا انتظار کریں دھرنے والوں سے بات کرتاہوں، میں جی ایچ کیوگیا جنرل راحیل کوساری بات بتائی، مرحوم جنرل اشفاق ندیم میرے پاس بیٹھ گئے، 15منٹ بعد جنرل راحیل واپس آئےکہابات نہیں بنی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ 2014 میں وہ چاہتے تھے کہ پاکستانی معیشت پرکاری ضرب لگائی جائے، ہر روز اسلام آباد پر چڑھائی ہورہی ہوتی ہے، یہ کیوں ہورہا ہے ایک عقل کے اندھےکو بھی سمجھ آرہا ہے، ہمارا آئی ایم ایف پروگرام مکمل طے ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی ایک سال پہلے 32 فیصد تھی آج 6.39 فیصد پر ہے، ایکسپورٹ بڑھ گئی، ترسیلات زر اور آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے، ایک جھتےکومنظور نہیں کہ پاکستان ترقی کرے، جہاں افراتفری ہوگی شوروغل ہوگا وہاں کون سرمایہ کاری کرےگا، سرمایہ کاری وہیں ہوتی ہےجہاں حالات پرسکون اور امن ہو۔
وفاقی کابینہ اجلاس میں پولیس اور فوج کےشہدا کے لیے دعا بھی کی گئی ہے۔



















