سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ عوام 20 سے 50 سال انصاف کیلئے عدالتوں میں خوار ہورہے ہیں۔
سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام پچیدہ ہے، عوام 20 سے 50 سال انصاف کیلئے عدالتوں میں خوار ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کی محدود تعداد ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ریفرنس کو کتنے سال لگے، بلاول بھٹو نیک نیتی سے انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سب کے پاس جا رہے ہیں۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ترمیم میں جج کی تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہو، موجودہ طریقہ کار پر سوالیہ نشان ہے، 2006 میں سخت سیاسی مخالف جماعتوں نے میثاق جمہوریت کیا، میثاق سے پہلے کسی اسمبلی نے پانچ سال پورے نہیں کیے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ایک جماعت ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے، پارلیمان کی سپر میسی کو قبول کرنا نہیں چاہتی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ تین بار وفاق پر چڑھائی کرتا ہے، وزیر اعلیٰ بتائے کون سے بارہ اضلاع گھوم کر آئے ہیں، پیپلزپارٹی آئین ترمیم کے حق میں ہے۔
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ہم تو لوئرر کورٹ میں سول اور کریمنل کورٹ الگ کرنا چاہتے ہیں۔



















