Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انصاف کے لیے ایک مخصوص عدالت کی ضرورت ہے؛ بلاول بھٹو

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ انصاف کے لئےعام عدالت کے ساتھ ایک مخصوص عدالت بھی چاہیے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہاری کارڈ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کروں گی، بینظیر بھٹو نے وعدہ کیا تھا وہ میثاق جمہوریت پرعملدرآمد کریں گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر کسی کو جیل میں بیٹھے ہوئے موڈ نہیں ہے تو ہم اپنا وعدہ بھول جائیں؟، بینطیر بھٹو کا وعدہ نبھانا ہے اور پاکستان کو بچانا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی کی صورت میں ہم بہت سی تبدیلیاں لے کر آئے، سی او ڈی کے ذریعےعوام کو حقوق دیے اور ایک آمر سے جان چھڑائی، چارٹر آف ڈیموکریسی کے جو وعدے رہ گئے تھے کیا انہیں بھول جانا چاہیے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ سی او ڈی پر کیے گئے وعدوں پرعملدرآمد پر سمجھوتے کو تیار نہیں، جو مجھے کہہ رہے ہیں کہ پیچھے ہٹ جاؤ میں ان کو کہتا ہوں کہ تم پیچھے ہٹ جاؤ۔ ہم میثاق جمہوریت میں کیے گئے وعدوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

کیا عوام پاکستان کے نظام انصاف سے مطمئن ہیں؟

انہوں نے سوال کیا کہ کیا عوام پاکستان کے نظام انصاف سے مطمئن ہیں؟، انصاف کے لئے عام عدالت کے ساتھ ایک مخصوص عدالت بھی چاہیے۔ آپ مانتے ہیں انصاف کا نظام ٹوٹا ہوا ہے تو بینظیر بھٹو نے حل بھی بتایا ہے اور میثاق جمہوریت میں نظام عدل میں شفافیت کا راستہ دکھایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف چاہیے توعام عدالت کے ساتھ مخصوص عدالت چاہیے، چاہتے ہیں چاروں صوبوں کے لوگ آئینی سوالات کا جواب دیں، آئین کا تحفظ کرنے والی عدالت ایک آمر کو اجازت دیتی ہے مرضی کا آئین بنائے جب کہ افتخار چوہدری نے ایسا نظام شروع کیا جس سے عوام کو انصاف تو نہیں ملتا۔

پاکستان میں انصاف کا نظام نہیں بلکہ ناانصافی کا نظام ہے

چیئرمین پیپلزپارٹی نے بتایا کہ ہماراطریقہ مفاہمت کی سیاست کا ہے، ہم تو حساب لیتے ہی نہیں لیکن پاکستان میں انصاف کا نظام نہیں بلکہ ناانصافی کا نظام ہے۔ 18 اکتوبر کو حیدرآباد میں سب مل کر انصاف کا مطالبہ کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ مجھے کہا جارہا ہے ٹائم صحیح نہیں، اب نہیں تو کب ہوگا؟، وہ وقت آئے گا جب ہر ایک گناہ کا جواب دینا پڑے گا۔ ہم سب مل کر جوڈیشل ریفارمز کا مطالبہ کریں گے اور ہم سب مل کربرابری کی نمائندگی کا مطالبہ کریں گے، کارکنان عوام کو بتائیں ہم جلد اور فوری انصاف دلائیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں مشاورت کا عمل جاری ہے، آئینی ترامیم جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ سے منظور کرائیں گے۔ ایک بار پھر کل مولانا فضل الرحمان سے ملوں گا، ملک میں جب بھی آئین سازی ہوئی جے یو آئی کا اہم کردار رہا اور ہم نے برابری کی بنیاد پر 18 ویں ترامیم منظور کرائیں اور ہم مل کر 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعےنظام میں بہتری لائیں گے۔

ہاری کارڈ کی تقسیم

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی آئی ایس پی، مزدور کارڈ کے بعد بینظیر ہاری کارڈ کا افتتاح کرنے جارہے ہیں، پیپلزپارٹی ملک میں پسماندہ نمائندوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ خواتین کی مالی مدد کے لئے بی آئی ایس پی کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی جب کہ پیپلزپارٹی صرف غریبوں کے لئے انقلابی کام کرتی ہے۔

بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو معیشت کو ایسے چلاتی تھیں کہ غریبوں کو فائدہ پہنچے، بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو ہاری خود کو وزیراعظم سمجھتا تھا۔ بینظیر بھٹو کے دور میں بھی کہا جاتا تھا کہ پاکستان نازک دورسے گزر رہا ہے جب کہ بینظیر بھٹو نے فیصلہ کیا کہ آلو کی فصل حکومت خریدے گی جب کہ اسلام آباد میں بیٹھے بابوؤں نے کہا ہم یہ کیسے کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بینظیر بھٹو نے کہا آلو خرید کے مچھلیوں کو کھلادیں گے مگر کسان بھوکا نہ رہے، بینظیر بھٹو نے اسلام آباد میں بیٹھے بابوؤں کی پرواہ نہیں کی اور ریلیف دیا۔ ملک کے ہاری کو فائدہ ہوگا تو ملک اور معیشت کو فائدہ ہوگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی ؎کہتے ہیں کہ آصف زرداری کے صدر بننے سے پہلے گندم، چاول، چینی باہر سے منگوائی جاتی تھی۔ آصف زرداری نے صدر بن کر فیصلہ کیا کہ پیسہ پاکستان کے کسانوں کو دوں گا۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ آج ہر طبقہ پریشان اور مشکلات کا شکار ہے جب کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کے لئے فیصلے کریں۔ آج ماحولیاتی تبدیلی زندگی موت کا مسئلہ بن چکی ہے، موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان کسان اٹھارہا ہے۔

ڈی ریگولیشن پالیسی کی مخالفت

بلاول بھٹو نے زراعت میں ڈی ریگولیشن پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا بڑے مافیاز، صنعت کاروں کی جانب سے سازش کی جارہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سازش چل رہی ہے زرعی شعبے کو ڈی ریگولیٹ کریں، کسان کی مدد نہ کی جائے، ڈی ریگولیشن کرنے سے زیادہ کوئی احمقانہ مشورہ نہیں ہوسکتا، زرعی  شعبے کو ڈی ریگولیٹ نہیں بلکہ ریگولیٹ کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں