سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کا ملازمت میں کوٹہ غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، تحریری حکم نامے کے مطابق سرکاری ملازمین کے بچوں سے متعلق تمام پالیسزغیر آئینی قرار دے دی گئی ہیں۔
فیصلے میں کوٹہ سے متعلق پرائم منسٹر پیکج فارایمپلائمنٹ اور سندھ سول سرونٹس رولز1974 کے سیکشن 11 اے کو بھی کالعدم قرار دیدیا۔
تحریری فیصلے میں اشتہار یا اوپن میرٹ کے بغیر بیوہ یا بچے کا سرکاری ملازمت میں کوٹہ آئین کے آرٹیکل 3 آرٹیکل 4، آرٹیکل 5 زیلی شق دو، آرٹیکل 25 اور آرٹیکل 27 سے متصادم قرار دیا گیا۔
تحریری فیصلے میں بلوچستان سول سرونٹس رولز کے سیکشن 12 کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق عدالتی فیصلے کا اطلاق پہلے سے بھرتی شدہ بیواؤں اور بچوں پر نہیں ہوگا، عدالتی فیصلے سے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ملازمین کیلئے دیے گئے پیکجز متاثر نہیں ہونگے۔
سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ فیصلے کا اطلاق، شہداء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر نہیں ہوگا، دہشتگردی سے لڑنے والے افسران اور اہلکاروں پر بھی فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔



















