Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مجوزہ 26 ویں آئینی ترمیم کی کاپی سامنے آگئی

اسلام آباد: مجوزہ 26 ویں آئینی ترمیم کی کاپی بول نیوز نے حاصل کرلی ہے۔

مجوزہ 26 ویں آئینی ترمیم کے نئے مسودے میں 26 ترامیم کو شامل کیا گیا ہے جب کہ نئے مسودے میں ایک بار پھر آئینی بینچ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ آئینی ترمیم میں تجویز دی گئی ہے کہ جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا، آئینی بینچزمیں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے ججز تعینات کیے جائیں گے۔ آرٹیکل 184 کے تحت ازخود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کے پاس ہوگا، آرٹیکل 185 کے تحت آئینی تشریح سے متعلق کیسز بینچز کے دائرہ اختیارمیں آئیں گے۔

آئینی بینچ کم سے کم 5 ججز پر مشتمل ہوگا، آئینی بینچز کے ججز کا تقرر 3 سینئر ترین ججز کی کمیٹی کرے گی، چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر تین سینئر ججوں میں سے ہوگا اور اس کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے گی جب کہ پارلیمانی کمیٹی سینیٹ اور قومی اسمبلی سے لئے گئے ارکان پرمشتمل ہوگی

تجویز میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال ہوگی جو 65 سال عمر پوری ہونے یا تین سال مکمل ہونے پر ریٹائر ہوجائے گا، سپریم کورٹ کے ججز کا تقرر کمیشن کرے گا اور چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن میں چار سینئر ترین ججز شامل ہوں گے جب کہ وفاقی وزیر قانون اٹارنی جنرل بھی کمیشن کے ارکان ہوں گے۔

تجویز کے مطابق کم سے کم 15 سال تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا نامزد کردہ وکیل دو سال کے لیے کمیشن کا رکن ہوگا، دو ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان سینٹ کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ سینٹ میں ٹیکنوکریٹ کی اہلیت کی حامل خاتون یا غیر مسلم کو بھی دو سال کے لیے کمیشن کا رکن بنایا جائے گا۔

چیف جسٹس کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کرنے کی تجویز ہے جب کہ پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس کا تقرر کرے گی۔ کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے اور کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا۔

چیف جسٹس کے تقرر کے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تجویز ہے، پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔ پارلیمانی کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی چار ارکان سینیٹ سے ہوں گے۔

مجوزہ آئینی ترمیم میں مزید یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آرٹیکل 184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طور پر کوئی ہدایت یا ڈیکلریشن نہیں دے سکتی، آرٹیکل 186 اے کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائی کورٹ یا اپنے پاس منتقل کرسکتی ہے جب کہ ججز تقرری کمیشن ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

متعلقہ خبریں