کراچی چیمبر نے وزیر اعظم شہباز شریف سے فوری طور پر چھ ورکنگ ڈے بحال کرنے کی اپیل کردی۔
صدر کراچی چیمبر آف کامرس جاوید بلوانی کے مطابق ٹیکس دہندہ کا چھ دن، ٹیکس سے تنخواہ لینے والے کا پانچ دن کام کرنا سراسر ناانصافی ہے، حکومت وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ان کے ماتحت تمام متعلقہ حکام، اداروں اور محکموں کے لیے فوری طور پر چھ ورکنگ ڈے بحال کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل سے معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ صنعت و تجارت کو بھی سہل بنایا جا سکے، 2011 کے بعد سے وزارتوں، سرکاری محکموں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، مالیاتی اور بینکنگ اداروں کی اضافی ہفتہ وار تعطیل کے باعث کاروباری و صنعتی برادری کو مسلسل شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شپنگ کمپنیاں بھی بغیر کسی سروس کو مہیا کئے ہفتے کو چھٹی مناتی ہیں، جس کی وجہ سے برآمدی / درآمدی کنسائنمنٹس کو سنبھالنے میں دشواری ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں بھاری ڈیمررج اور ڈیٹینشن چارجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جاوید بلوانی نے کہا کہ ہفتے کو بینکنگ خدمات کی عدم دستیابی کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بُری طرح متاثر ہوتی ہیں۔
صدر کراچی چیمبر آف کامرس کا کہنا تھا کہ اور جی سی سی ممالک کے ساتھ کام کرنے والے کاروباری افراد کو بھی بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ ممالک جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل کرتے ہیں لہذا ایسی صورتحال میں جی سی سی ممالک کے ساتھ ہفتے بھر میں چار دن مالی لین دین کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں ہمارے ملک میں اب توانائی کی کوئی کمی نہیں، وفاقی وزارت برائے توانائی نے بھی وقتاً فوقتاً باور کیا کہ ملک کو ضرورت سے زیادہ بجلی میسر ہے جبکہ حکومت آئی پی پیز کو غیر فعال صلاحیت کی ادائیگیاں دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 13 اکتوبر 2011 کو فی ہفتہ پانچ ورکنگ ڈے کے فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کیونکہ اُس وقت ملک کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا تھا، جس کے نتیجے میں طویل لوڈ شیڈنگ اور کئی گھنٹوں کے لیے بریک ڈاؤن ہوا کرتے تھے۔



















