وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچانے والوں کے خواب چکنا چور ہو گئے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 90 ہزار پوائنٹس کی تاریخی سطح سے تجاوز کرنے پر قوم کو مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے مارچ 2024 سے اسٹاک مارکیٹ میں بتدریج اضافہ سرمایہ کاروں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی ہے، 14 برس بعد پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں ایسا تیز اضافہ معاشی ٹیم کی ان تھک محنت کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں مارچ 2024 سے اب تک 36 فیصد اضافہ، مہنگائی میں کمی اور مجموعی معاشی استحکام کا سہرا معاشی ٹیم کو جاتا ہے، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے 6.9 فیصد پر آگئی۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ سہ ماہی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ریکارڈ 8.8 ارب ڈالر پر پہنچ گئیں، مسلسل دو ماہ سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ بجلی صارفین کے ریلیف کیلئے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی شروع ہو چکی، آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کی لانگ ٹرم فسیلٹی معیشت میں مزید بہتری لے کر آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ اپنی عوام سے عہد کیا تھا کہ لاکھوں قربانیوں سے حاصل کئے اس ملک کو مجرمانہ غفلت برتنے والوں کی نا اہلی کے نتائج کی بھینٹ نہیں چڑھنے دونگا، ہم نے سیاست کی قربانی دے کر ریاست بچائی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان میں ہر محاذ پر بہتری آئی ہے، پر امید ہوں کہ آئندہ چند روز میں معیشت کی بہتری کے حوالے سے مزید خوشخبریاں ملیں گی۔
واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں پہلی بار 100 انڈیکس 90 ہزار کی سطح عبور کرگیا۔
کاروبار کے دوران 100 انڈیکس تاریخی سطح 90 ہزار 593 پوائنٹس پر ٹریڈ ہوا، کاروبار کے اختتام پر 1047 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
100 انڈیکس معمولی پرافٹ ٹیکنگ کے بعد 89 ہزار 993 پوائنٹس پر بند ہوا، مارکیٹ میں کاروبار 1.18 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹاک مارکیٹ میں 36 ارب روپے کے 64 کروڑ حصص کا کاروبار ہوا، مارکیٹ میں مجموعی طور پر 181 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ جبکہ 222 کمپنیوں کے حصص میں کمی ہوئی۔



















