گورنر خیبرپختونحوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی قصوروار ہے تو سزا بھگتنا پڑے گی۔
گورنرخیبرپختونحوا فیصل کریم کنڈی نے مردان کا دورہ کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں اس وقت دو حکومتیں چل رہی ہیں، ایک بشریٰ بی بی اور ایک وزیر اعلیٰ چلا رہے ہیں، آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسی صورتحال نہیں کہ گورنر راج لگایا جائے، صوبے میں امن و امان کی حالت انتہائی خراب ہے، صوبائی کابینہ میں ایک وزیر زیادہ ہے اسکو ڈی نوٹیفائڈ کرنا پڑے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہماری نسلوں کو سنوارنے والے اساتذہ آج سڑکوں پر ہیں، صوبے پاس تنخواہوں اور پنشن کے لئے پیسے نہیں، 26 یونیورسٹی کے وائس چانسلر نہیں ہیں، سرکاری ملازمین کو ریاست کے خلاف استعمال کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ قیدی جلسے جلوسوں سے نہیں، عدالتوں سے رہا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صوبے اور مرکز کو مل بیٹھ کر کام کرنا چاہیے، باقی صوبوں میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، ہمارا ہاں صرف دھرنوں کے اعلانات ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے مابین اچھے تعلقات ہیں، امیر حیدر ہوتی سے امان و امان اور صوبے کے مالی معاملات کے حوالے سے صلاح مشورہ کیا ہے، عوامی مفاد میں مل جل کر کام کریں۔



















