کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کے الیکٹرک کا لائسنس ختم کرنے اور فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کردیا۔
امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے سامنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوں میں ظالمانہ اضافے اور میونسپل ٹیکس شامل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔
امیرجماعت اسلامی کراچی کا کہنا ہے کہ نجکاری سے پہلے کے ای ایس سی 5 ارب روپے کماتا تھا، کے الیکٹرک کو اب 169 ارب روپے سبسڈی دی جارہی ہے۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ مزید 68 ارب روپے کراچی کے شہریوں سے وصول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جب کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو کچل کر رکھ دیا ہے۔
امیرجماعت اسلامی کراچی کہتے ہیں کہ ریاست پانی جیسی بنیادی سہولت تک دینے میں ناکام ہے، حکومت کا بجلی کے بلوں میں کمی کاؤنٹر پیکیج فریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونا جماعت اسلامی کی جدوجہد کی فتح ہے، جماعت اسلامی عدالتوں اور نیپرا میں کراچی کے شہریوں کا مقدمہ لڑرہی ہے۔
منعم ظفر مزید کہتے ہیں کہ آئی پی پیز سے ڈالربیسڈ معاہدے ختم کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف کے الیکٹرک کو ڈالر بیسڈ ادائیگی کی جارہی رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کا لائسنس ختم کیا جائے، کےالیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، بجلی سستی اور لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔



















