اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک کے اشتراک کار سے اسلام آباد میں فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے خواہاں ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک ناجے بن حسین کی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں پائیدار ترقی کے اہداف اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں اسموگ کے مسئلہ پر باہمی تعاون سے قابو پانے پر اتفاق کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ورلڈ بینک اور سی ڈی اے کی مشترکہ ٹیم انسداد سموگ پلان تیار کرے گی۔
دوران ملاقات الیکٹرک بسوں، صاف پانی، سینیٹیشن اور کچی آبادیوں کی ترقی کیلئے معاونت پر بھی بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس ایئر کوالٹی انڈکس 271 تک پہنچا ہے، اس سے پہلے صورتحال خطرناک سطح پر پہنچے، ہمیں فوری طور پر جامع انسداد اسموگ پلان وضع کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی ایئر کوالٹی کو بہتر بنانے اور محفوظ شہر بنانے میں ورلڈ بینک کے تعاون کا خیر مقدم کریں گے، پوری کوشش ہے کہ اسموگ کے مسلہ کا ابھی سے تدارک کیا جائے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک ہے اس کے پر فضا ماحول کو برقرار رکھنا ہے، بین الاقوامی معیار کی جائزہ رپورٹ کے ذریعے اسموگ کی اصل وجوہات کو سامنے لانا ضروری ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں اینٹی اسموگ مشینوں کی تنصیب کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، اسلام آباد کے شہریوں اور مہمانوں کو صاف اور صحت مند ماحول دینا بنیادی مقصد ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ورلڈ بینک کے اشتراک کار سے اسلام آباد میں فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے خواہاں ہیں، شہر کے ماحول کو صاف رکھنے کیلئے الیکٹرک بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے، اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں کی بہتری بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے، شہریوں کو صاف پانی اور سینیٹیشن کی فراہمی بھی ہمارے اہداف میں شامل ہے، اسلام آباد میں واسا کے ادارے کو اسلام آباد واٹر کے نام سے متعارف کرا رہے ہیں۔
دوسری جانب کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک نے وزیر داخلہ کو اسموگ پر قابو پانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تعاون کی یقین دہانی کرئی اور کہا کہ سی ڈی اے کے ساتھ مشاورت سے انسداد اسموگ حکمت عملی وضع کرنے کے لیے تیار ہیں، رپورٹ سے مسلے کی جڑ تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پرموجود تھے۔



















