وفاقی وزیر برائے امورکشمیر انجنئیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی فائنل کال مس کال ثابت ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے امورکشمیر انجنئیر امیر مقام نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی 9 مئی کر کے سوچ رہی تھی کہ ہرجگہ گھس سکتی ہے، جیسے کور کمانڈر کے گھر، آرمی کی چھاؤنیوں میں گھس گئے تھے، جیسے پشاور ریڈیو اسٹیشن، ٹول پلازہ کو جلایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ حکومت کی جانب سے ردعمل آئیگا، یہ سمجھے سیکڑوں یا ہزاروں افراد کی لاشیں گریں گی، پولیس و رینجرز اہلکاروں کی لاشیں گرنے پر صبر تحمل سے کام لیا، امن وامان قائم کرنے کی تاریخی مثال نہیں ملتی، جیسا پی ٹی آئی چاہ رہی تھی ویسا کچھ نہیں ہوا۔
امیرمقام نے کہا کہ 9 لاکھ تو چھوڑیں 9 ہزار لوگ بھی احتجاج میں نہیں آئے، پی ٹی آئی لیڈرشپ اپنے مظاہرین کو چھوڑ کر بھاگ گئی، میں ان بےگناہوں کا مقدمہ لڑنا چاہتا ہوں جو شہید ہوئے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے کارکنان کو چھوڑ کر چلے گئے۔
وفاقی وزیر برائے امورکشمیر نے کہا کہ شرپسندوں نے اسلام آباد پر حملہ کیا، پی ٹی آئی قیادت کہتی تھی یہ ہماری فائنل کال ہے، فائنل کال رانگ کال یا مس کال ثابت ہوئی، 2 سے 3 دن تک اسلام آباد کو مفلوج کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم اسمبلی سے ختم ہوسکتی ہے، 26 ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور ہوئی، کیا ڈی چوک جانے سے 26ویں آئینی ترمیم ختم ہو جائیگی؟



















