اسلام آباد: وفاقی حکومت نے انتشار پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء سمیت اعلی عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء نے مجموعی سیکیورٹی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا اور وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کا عزم کیا۔
اجلاس میں احتجاج کے نام پر فساد برداشت نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے جب کہ وفاقی حکومت نے انتشار پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے امن عامہ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چند دن پہلے کے پی سے ایک جتھہ وفاق پر حملہ کرنے آیا تھا، جب کہ کے پی حکومت اپنے سرکاری وسائل سے لیس ہوکر آئی۔
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو شدید گھاؤ لگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، ایسے رویوں کی وجہ سے معیشت کو اندازے کے مطابق 190 ارب روپے کا نقصان پہنچا جب کہ جتھے نے تباہی اور اس دوران 4 رینجرز سمیت 1 پولیس اہلکار شہید ہوا۔
شہباز شریف کہتے ہیں کہ رینجرز اور پولیس کے درجنوں سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔ ایکسپورٹ، امپورٹ، پروڈکشن، انڈسٹریز، دفاتر اور بزنس میں نقصان ہوا جب کہ دنیا کے سامنے تماشہ لگایا گیا اور پاکستان کے نام کو رسوا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے 8 اور 9 ماہ میں وفاق کے خلاف تیسری یا چوتھی لشکر کشی ہے جب کہ 2014 میں بھی 126 دن پاکستان کی رسوائی اور معیشت کی تباہی کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ فتنہ اور تخریب کاروں کا جتھہ ہے اور ان کا ایک ہی ایجندا ہے کہ ہر چیز کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ دشمنان پاکستان کے ہاتھ نہ صرف روکیں گے بلکہ توڑ دیں گے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان حملوں کے پیچھے تخریبی سوچ ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، جب بھی کوئی اہم شخصیت پاکستان کا دورہ کرتی ہے تو ان کے حملے شروع ہوجاتے ہیں، اس سے بڑھ کر پاکستان کے ساتھ اور کیا دشمنی ہوستی ہے؟۔



















