Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھگوڑے مظاہرین کی گرفتاری پر جو انکشافات سامنے آئے وہ ہوش ربا ہیں، ڈی پی او اٹک

ڈی پی او اٹک سردار غیاث گل خان کا کہنا ہے کہ بھگوڑے مظاہرین کی گرفتاری پر جو انکشافات سامنے آئے وہ ہوش ربا ہیں۔

 ڈی پی او اٹک سردار غیاث گل خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 24 نومبر کو سیاسی جماعت نے احتجاج کی کال دی، 27 نومبر تک پورا ملک ہیجان کی کیفیت میں رہا، بھگوڑے مظاہرین کی گرفتاری پر جو انکشافات سامنے آئے وہ ہوش ربا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو واپس آنے والے مظاہرین نے دوبارہ فائرنگ کی، مظاہرین کی گرفتاری کے بعد 4 مراحل پر مشتمل تحقیقات کی گئیں، مظاہرین کے موبائل فون بھی چیک کیے گئے، پولیس ایک ریاستی ادارہ اور عوام کے جان و مال کی محافظ ہے۔

سردار غیاث گل خان نے کہا کہ پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کوئی دن ایسا نہیں جب پولیس کے جوان شہادت نہ دیں، موبائل فون سے برآمد ہونے والی ویڈیوز میں ریاستی ادارے کی توہین کی گئی، پولیس یونیفارم لہرانے والا شخص بھاری ہتھیاروں سے مسلح تھا۔

ڈی پی او اٹک نے کہا کہ گرفتار ہونے والے مظاہرین سے آنسو گیس کے شیلز، ماسک، لاٹھیاں اور اسلحہ پکڑا گیا، ایک گاڑی  سے بم بنانے کا سامان برآمد ہوا، مظاہرین نے جس قسم کا اسلحہ استعمال کیا اس کا تجزیہ کروایا جا رہا ہے، 89 مظاہرین ایسے ہیں جن کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ نہیں، تجزیہ کیا جائے تو ایسے گھوسٹ مظاہرین کی تعداد دو سے اڑھائی ہزار تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کا اسلام آباد پہنچ جانا لمحہ فکریہ ہے، یہ تمام افراد انتہائی تربیت یافتہ تھے، اسلام آباد آنے والے تربیت یافتہ شرپسند ایلیٹ کمانڈوز سے بھی زیادہ ٹرینڈ تھا، شرپسندوں نے جیٹ انجن سائز کے پنکھوں سے زہریلی گیس پھیلائی، غازی  بروتھا پر شرپسندوں کی زہریلی گیس سے متاثر ہونے والے اہلکاروں کے پھیپھڑے اب بھی متاثر ہیں۔

سردار غیاث گل خان نے کہا کہ اٹک میں ایک بھی مظاہرہ کرنے والا زخمی نہیں ہوا، مظاہرین کے دائیں اور بائیں رہنے والے پانچ پانچ سو کے مسلح تربیت یافتہ جتھے نے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، پتھر گڑھ میں شرپسندوں نے پولیس کو سیدھے فائر کا نشانہ بنایا۔

ڈی پی او اٹک نے کہا کہ دوسری جانب انا انسانی جانوں سے بھی اونچی تھی، مظاہرین کے پاس آنسو گیس شیلز کو کلئیر کرنے والے آلات تھے، شرپسند مظاہرین نے برازیل سے منگوائے ہوئے آنسو گیس کے شیل پھینکے، مظاہرین کے پاس موجود آنسو گیس شیلز ہم سے 3 گنا زیادہ موثر تھے، بعض شر پسند بلٹ پروف ویسٹ اور خودکار ہتھیار سے مسلح تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تو پولیس افسر بھی ہتھیار لے کر نہیں چلتے، شرپسندوں نے عوام کے ٹیکس سے خریدا گیا سامان جلایا، مظاہرین کے ماسٹر مائنڈز پولیس کی کمیونیکیشن انٹرسیپٹ کر رہے تھے، شرپسند مظاہرین اور ان کے ماسٹر مائنڈ وائرلیس کمیونیکیشن بھی جاری رکھے ہوئے تھے، شرپسندوں کے پتھراؤ سے متعدد اہلکاروں کے سر میں چوٹ لگی، ہمارے 147 جوان شدید زخمی ہوئے، 25 اہلکاروں کی حالت نازک ہے۔

متعلقہ خبریں