Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ججز تعیناتی کے لئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ججز تعیناتی کے لئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ججز تعیناتی کے لئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ عوامی رائے جاننے کے لئے ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔

مسودے کے مطابق ججز کی تقرری کے لئے میرٹ پروفیشنل کوالیفیکیشن، قانونی پر عبور اور صلاحیت پر مشتمل ہوگا جب کہ ججز کے لئے میرٹ میں امیدوار کی ساکھ اور دباؤ سے آزاد ہونا بھی شامل ہوگا۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ ججز کے لئے نامزدگیوں میں وکلاء اور سیشن ججز کی مناسب نمائندگی ہونی چاہیے، سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لئے تمام ہائی کورٹس کی مناسب نمائندگی یقینی بنائی جائے اور سپریم کورٹ میں تعیناتی ہائی کورٹس کے پانچ سینئر ترین ججز میں سے ہونی چاہیے۔

مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری تین سینئر ترین ججز میں سے ہوگی، جوڈیشل کمیشن میں تمام ناموں پر غور کرنے کے بعد ووٹنگ کا عمل شروع ہوگا جب کہ جوڈیشل کمیشن کے 2010 کے رولز ختم کردیے گئے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن رولز میں ججز نامزدگی کے لئے پرفارما بھی تجویز کردیا ہے جس کے مطابق ہائی جج کے لئے نامزد وکیل فوجداری، سول، فیملی یا دیگر مقدمات کی تفصیلات بھی دینا ہوں گی۔

پرفارما کے مطابق کوئی وکیل اگر حکومت کی طرف سے پیش ہوا تو مقدمات کی تفصیل بتانا ہوگی، رپورٹڈ فیصلے اور پانچ اہم فیصلے کی تفصیل بھی پرفارما میں ظاہر کرنے کا تقاضا شامل ہے جب کہ پرفارما میں سالانہ ٹیکس ادائیگی کی تفصیل بھی ظاہر کرنا ہوگی۔

مس کنڈکٹ کی شکایات کی تفصیلات فراہم کرنے بارے بھی پرفارما کا حصہ ہے جب کہ پرفارما میں سوال کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شکایت آئی تو اس کی نوعیت کیا تھی، اس وقت شکایت کا کیا اسٹیٹس ہے۔

مجوزہ قواعد کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا سیکرٹریٹ سپریم کورٹ کی عمارت اسلام آباد میں یا کسی اور جگہ، جو چیئرپرسن طے کرے قائم کیا جائے گا۔ کمیشن کی تمام کارروائیوں کا ریکارڈ رکھے گا۔

مجوزہ قواعد میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ کی سربراہی ایک سیکرٹری کرے گا اور اس میں وہ افسران اور عملہ شامل ہوں گے جنہیں چیئرپرسن طے کرے گا، سیکرٹریٹ کے افسران اور عملہ وہ فرائض انجام دیں گے جو چیئرپرسن یا ان کا مقرر کردہ رکن تفویض کرے گا۔

مسودے میں مزید بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے چیئرمین زیر التواء مقدمات کا جائزہ لے کر ان آسامیوں کی تعداد کا تعین کرے گا، جوڈیشل کمیشن میں نامزدگیوں پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری یا شو آف ہینڈ سے ہوگی جب کہ ووٹنگ کا طریقہ کار جوڈیشل کمیشن خود طے کرے گا۔

متعلقہ خبریں