Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جناح میڈیکل یونیورسٹی میں پہلی جینیٹک مالیکیولر لیب قائم

کراچی: جناح میڈیکل یونیورسٹی میں پہلی جینیٹک مالیکیولر لیب قائم کردی گئی ہے جس میں قبل از وقت بچے کی پیدائش میں جسمانی اور ذہنی نقائض کی تشخیص کی جاسکے گی۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں پہلی بار جنیٹک مالیکیولر لیب قائم کردی گئی جس کا افتتاح 19 دسمبر کو کیا جائے گا جب کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں شعبہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ ایمرجینگ ٹیکنالوجی کے قیام کے لیے معائدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

کراچی کی دو میڈیکل یونیورسٹیوں کے دونوں منصوبوں کے لیے امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشنیز آف نارتھ امریکہ (APPNA) تنظیم نے 3 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں۔

جینیٹک مالیکیولر لیب کے لیے ایک لاکھ ڈالرجب کہ شعبہ ارٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ ایمرجینگ ٹیکنالوجی کے لیے 2 لاکھ ڈالر عطیہ کیے گئے ہیں۔

بروز بدھ کو کراچی پریس کلب میں امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم  APPNA کے صدر ڈاکٹر آصف محی الددین اور جنرل سکرٹری ڈاکٹر رضوان نعیم نے 3 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن، ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر سیمی نثار مورائی سمیت دیگر فیکلٹی اراکین بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر آصف محی الددین اور ڈاکٹر رضوان نعیم کا کہنا تھا کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی جینٹک لیبارٹری کے قیام کا مقصد قبل از وقت بچے کی پیدائش میں جسمانی اور ذہنی معذوری کی تشخیص کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس لیب کے ذریعے قومی ادارے میں زیر علاج بچوں سمیت تمام بچوں کو مفت لیبارٹری کی خدمات حاصل ہوسکے گی۔ جینیٹک مالیکیولر لیب کے لیے مشینری اور دیگر تشخیصی آلات سنگاپور سے جلد سے کراچی پہنج جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کی یہ پہلی جینیٹک لیبارٹری ہوگی جس میں پیدائش سے قبل بچے کے نقائض معلوم کیے جاسکیں گے۔

ان ماہرین کا کہنا ہے اس منصوبے کے علاوہ APPNA تنظیم کے تعاون سے ڈاؤ یونیورسٹی میں شعبہ ارٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ ایمرجینگ ٹیکنالوجی قائم کرنے کے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے اور جلد ہی ڈاؤ یونیورسٹی کے ساتھ معائدہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں