مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر اسمبلی نے متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے امریکی بندشوں کی مذمت کردی۔
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی نے سابق وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔
قرارداد میں امریکی حکومت کی بھارت کے حق میں علاقائی طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی کوششوں کی مذمت کی گئی ہے جب کہ قرارداد کے مطابق پاکستان کا میزائل پروگرام صرف دفاعی مقاصد اور بھارت کے جارحانہ ارادوں کو روکنے کے لیے ہے۔
سابق وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر نے قرارداد میں کہا کہ امریکی حکومت کے اقدامات بھارتی لابی کے زیر اثر ہیں، جو پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کو مکمل طور پر نہ سمجھنے کا ثبوت ہیں۔
راجہ فاروق حیدر کہتے ہیں کہ کشمیری عوام کسی بھی بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے جب کہ امریکہ بھارت کو خطے کا ’’پولیس اسٹیشن‘‘ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں پاکستان واحد رکاوٹ ہے، پاکستان میں تخریب کاری میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں۔
آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم چوہدری انوارالحق نے پاکستانی فوج کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں میزائل ٹیکنالوجی اور جوہری پروگراموں کے کلیدی کردار ہے۔
چوہدری انوارالحق کا کہنا تھا کہ مضبوط دفاعی نظام کے بغیر ممالک تباہ کن نتائج کا سامنا کرتے ہیں۔ لیبیا، شام، لبنان اور غزہ کی مثالیں شامل ہیں جب کہ قومی سلامتی کوئی متنازع موضوع نہیں بلکہ اس کی اہمیت پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
چوہدری انوارالحق کا کہنا ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی اور جوہری طاقت کی اہمیت سے کوئی سیاسی قیادت انکار نہیں کرسکتی۔
کشمیری رہنما کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی زندگی، مال، عزت اور وقار کا دفاع کرنا چاہیے، قرارداد کی منظوری غیر ملکی مداخلت اور جارحیت کے خلاف آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے متحد مؤقف کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں، خاص طور پر میزائل پروگرام کی علاقائی استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔



















